بنوں حملہ: چار افسران معطل، کمیٹی تحقیقات کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیل پر حملے کے بعد تین سو سے زائد قیدی فرار ہوگئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے بنوں جیل پر حملے اور قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بناتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات، بنوں کے کمشنر اور ڈی آئی جی بنوں سمیت چار اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے فوری طور پر ہٹا دیا ہے۔

دوسری جانب بنوں جیل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے جیل پر حملہ ہونے کے فوری بعد بار بار مدد طلب کرنے کے باوجود سکیورٹی فورسز اور پولیس کی نفری وقت پر نہیں پہنچی۔

بنوں میں جیل پر حملہ: تصاویر

پیر کی صبح وزیراعلی سیکرٹریٹ پشاور سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح شدت پسندوں کی جانب سے بنوں جیل پر حملے اور تین سو سے زائد قیدیوں کے فرار کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے چار اعلیٰ افسران کو فوری طورپر ان کے عہدوں سے ہٹایا دیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ہٹائے جانے والے افسران میں آئی جی جیل خانہ جات ارشد مجید، کمشنر بنوں عبد اللہ جان، ڈی آئی جی بنوں رینج افتخار خان اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل بنوں محمد زاہد شامل ہیں۔ ان افسران کو فوری طور پر اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے رابط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے بنوں جیل واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وزیراعلی کے پریس سیکرٹری جاوید خاکی کے مطابق کمیٹی کے ممبران میں ڈائریکٹر آر ایم ایم یو ڈاکٹر احسان الحق، سیکرٹری ایجوکیشن محمد مشتاق جدون اور سپیشل سیکرٹری ہوم سید عالمگیر شاہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بنوں جیل پر ہونے والے حملے میں شدت پسندوں نے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا جن میں اکثریت عسکریت پسندوں کی تھی۔ ان میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے حملے میں ملوث ایک قیدی بھی شامل ہیں۔

جیل کے اہلکاروں کا موقف

گیٹ پر موجود اہلکاروں نے بتایا کہ جب طالبان نے بنوں جیل پر حملہ کیا تو انہوں نے مزاحمت کی لیکن جب مرکزی داخلی دروازہ ٹوٹ گیا اور اہلکاروں کے پاس اسلحہ میں گولیاں ختم ہوگئیں تو طالبان جیل کے اندر آگئے ۔

جیل میں تعینات اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے طالبان کے حملے کے بارے میں سکیورٹی فورسز کو اطلاع دی اور مدد چاہی لیکن سکیورٹی فورسز نے انہیں بتایا کہ طالبان نے راستے میں خودکش حملہ آور کھڑے کیے ہوئے ہیں اور وہ نہیں آ سکتے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حملہ آوروں نے اپنی ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کی کارروائی کے دوران تحمل سے تالے توڑے اور وہاں موجود قیدیوں کو بیرکوں سے باہر نکال لیا اور بغیر کسی مزاحمت قیدیوں کو ساتھ لے کر چلے گئے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ زاہد خان اور دیگر اہلکاروں کی رہائش گاہ بھی جیل میں واقع ہے اور انہوں نے بی بی سی کہ وہ بے بس تھے اور انہوں نے سکیورٹی فورسز کو اطلاع دی تھی تاہم وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے اور صبح ہی پہنچے۔

جیل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی حیران تھے کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز اور قریبی تھانے کو اطلاع دے دی تھی لیکن ان کی مدد کے لیے وقت پر کوئی نہیں پہنچ سکا۔

بنوں جیل کے سپرنٹنڈنٹ زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تین سو اکیاسی قیدی اب تک جیل سے فرار ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ جن قیدیوں نے طالبان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا ان میں سے کچھ قیدی واپس جیل آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں