سائیکل چلائیں اور پٹرول بچائیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرقان احمد نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر وہ سائیکل چلانا شروع کردیں۔

کار اور بائیک کا استعمال چھوڑیں، سائیکل چلائیں اور پٹرول بچائیں، اسی مقولے پر عمل کرتے ہوئے کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک نوجوان فرقان احمد پیر کو سائیکل پر کراچی سے لاہور روانہ ہوگئے۔

پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تاجر تنظیموں کا احتجاج، ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ یہ وہ شہ سرخیاں ہیں جو ٹی وی چینلز اور اخبارات میں تقریباً ہر ماہ سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔

آٹو موبائل انجینیئرنگ کا طالب علم فرقان پروفیشنل سائیکلسٹ نہیں ہے بلکہ یہ اس کا شوق ہے جس کے لیے اس کے پاس ایک عام سی سائیکل ہے۔

فرقان بتاتے ہیں کہ دو سال پہلے وہ بغیر کسی کو بتائے سائیکل اٹھا کر گھر سے نکل گئے اور لاہور جا پہنچے جہاں ان کے رشتہ داروں کو یقین نہیں آیا تھا کہ وہ بذریعہ سائیکل لاہور پہنچے ہیں۔’ان کا خیال تھا کہ میں بس یا ٹرک پر سائیکل رکھ کر آیا ہوں۔‘

اس مرتبہ چھٹیوں پر بھی فرقان نے سائیکل پر لاہور جانے کا ارادہ ظاہر کیا، مگر اس بار فرقان کے والد جو ٹیلر ماسٹر ہیں انہیں کسی مقصد کے ساتھ یہ سفر طے کرنے کا مشورہ دیا۔

فرقان کے مطابق ان کے والد نے انہیں بتایا کہ پٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جس کے باعث غریب آدمی سخت پریشان ہے اور وہ اسی مقصد کے تحت سائیکلنگ کیوں نہیں کرتے۔

پاکستان میں اس وقت چار لاکھ بیرل یومیہ پٹرول کا استعمال ہوتا ہے جس کے لیے حکومت کو بیرونِ ملک سے بھی تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلی سہ ماہی میں حکومت نے اس مد میں اربوں روپے کی رقم ادا کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرقان کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کسی ادارے یا شخصیت کی کوئی مالی معاونت حاصل نہیں ہے

فرقان کا خیال ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے، وہ انہیں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کار اور موٹرسائیکل چھوڑ کر سائیکل چلانا شروع کردیں، اس سے پٹرول کا استعمال کم ہوگا اور قیمتوں میں اضافہ بھی رک جائےگا۔

’ایران اور چین میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھیں تھیں تو لوگوں نے سائیکلنگ شروع کردی جس سے قیمتیں کم ہوگئیں، سائیکلنگ سے صحت بھی اچھی رہے گی، ماحول بھی صاف رہے گا اور پیٹرول بھی بچایا جاسکے گا۔‘

فرقان کو اس مقصد کی تکمیل کے لیے کسی ادارے یا شخصیت کی کوئی مالی معاونت حاصل نہیں ہے اور صرف اہل خانہ کی ہمت افزائی انہیں ساڑھے سات سو کلومیٹر کا سفر طے کرائےگی۔

نوجوان فرقان ایک سو گھنٹے میں لاہور پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ اٹھانوے گھنٹے میں یہ سفر طے کر چکے ہیں۔

’ کہیں رکنے کا اب تک معلوم نہیں، چارگھنٹے سائیکل چلاتا ہوں اور ایک گھنٹہ آرام چاہیے ہوتا ہے، اس ڈر سے بھی چلتا رہتا ہوں کہ کہیں جرائم پیشہ یا برے لوگوں کا سامنا نہ ہو۔‘

اسی بارے میں