گیارہ کروڑ ڈالر کی اضافی امریکی امداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption معاہدے پر دستخط امریکی سفیر کیمرون منٹر اور سیکرٹری فنانس وقار مسعود نے کیے۔

ایک جانب تو بنوں جیسے دن دھاڑے حملے ہو رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ اور پاکستان نے آج اسلام آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکہ پاکستان میں سرحدی سکیورٹی کو مستحکم کرنے، قانون نافذ کرنے میں مدد دینے اور عدالتی اصلاحات کے لیے گیارہ کروڑ ڈالر کی اضافی امداد دے گا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اس معاہدے پر دستخط امریکی سفیر کیمرون منٹر اور سیکرٹری فنانس وقار مسعود نے کیے۔

معاہدے کے تحت یہ رقم رواں سال دو ہزار بارہ میں فراہم کی جائے گی۔ بیان کے مطابق یہ امداد پولیس اور سرکاری وکلاء کی صلاحیت بڑھانے اور پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو جو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں حفاظتی آلات فراہم کرنے اور سرحدی قبائلی علاقوں میں سینکڑوں کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے لیے استعمال میں لائی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران منشیات اور قانون نافذ کرنے کے پروگراموں کے تحت امداد مہیا کی گئی ہے۔ اس دوران خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ساڑھے سات ہزار اہلکاروں کو جن میں خواتین بھی شامل ہیں تربیت کی گئی ہے۔ لیکن بیان میں اس امداد کے فواہد کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ کتنی موثر ثابت ہو رہی ہے۔ بنوں جیل سے سینکڑوں قیدیوں کے رہائی کے واقعے کے بعد خیال ہے کہ اس امداد کی افادیت کے بارے میں سوال ضرور اٹھائے جائیں گے۔