کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متوقع طور پر اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں منطور کی جانے والی سفارشات کا جائزہ لیا جائے گا

پاکستان میں وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے قومی مفادات پر مبنی پارلیمانی ہدایات پر موثرعمل درآمد کے لیے ایک ورک پلان تیار کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پارلیمانی جائزہ اور نگرانی سے نہ صرف خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں کو عوامی حمایت حاصل ہوئی بلکہ اس سے حکومت کو قومی اہمیت کے امور پر عالمی برادری کے ساتھ معاملات طے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیراعظم گیلانی کے مطابق ’اس عمل سے امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات طے کرنے کا منفرد موقع بھی ملے گا۔‘

اجلاس میں چیئرمین چیف آف جوائنٹ سٹاف، مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، ڈی جی آئی بی، وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری، دفاع، خارجہ، داخلہ اور اطلاعات کے وزرا اور دیگر اعلٰی حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت سویلین جوہری پروگرام کے لیے بین الاقوامی تعاون کے لیے کوششیں کرے۔

اجلاس میں کابل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کو دوہرایا کہ پاکستان افغان حکومت کی سربراہی میں ہونے والے امن اور مصالحت کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔

اجلاس میں گیاری سیکٹر میں جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور برف تلے دبے فوجیوں کی سلامتی اور امدادی آپریشن کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی۔

اجلاس میں آئندہ جمعہ کو ملک بھر میں یومِ دعا منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سیاچن کے گیاری سیکٹر میں تعینات فوجی دستے پر گیارہ اپریل کو برفانی تودہ گر گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک سو انتالیس افراد برف کے نیچے دب گئے۔ ان کی تلاش کے لیے گیاری سیکٹر میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اسی بارے میں