بنگلہ دیشی ٹیم کا دورہ، بارش کا پہلا قطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بنگلہ دیشی ٹیم کا مختصر دورہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے سنگِ مِیل کی حیثیت رکھتا ہے: ذکاء اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکاء اشرف کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان بارش کا پہلا قطرہ ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاک بھارت کرکٹ روابط بھی جلد بحال ہوجائیں گے۔

ذکا اشرف نے آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے بعد دبئی سے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ سے وہ چھ ماہ سے رابطے میں تھے اور اس دوران کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے لیکن وہ کرکٹ کی اصطلاح میں آخری گیند تک پر امید تھے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی ابتدا بنگلہ دیشی ٹیم کے دورے سے ہوگی۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ اگرچہ بنگلہ دیشی ٹیم کا دورہ صرف دو میچوں پر مشتمل ہے لیکن یہ مختصر دورہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے سنگِ مِیل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ مستقبل کی راہ بھی متعین کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے دورے کے بعد دنیا کو یہ پیغام بھی واضح طور پر دیا جاسکے گا کہ پاکستان کسی بھی ٹیم کے دورے کے لیے محفوظ ملک ہے اور باہر کی دنیا میں پاکستان کے بارے میں جو منفی رائے قائم ہے وہ بھی دور کی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سکیورٹی پلان آئی سی سی کو بھیجا جا رہا ہے جہاں تک پاکستانی میچ آفیشلز کی ان دو میچوں میں تعیناتی کا تعلق ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستانی امپائرز اس وقت آئی سی سی کے صف اول کے امپائرز میں شامل ہیں۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر مصطفٰی کمال کی نائب صدارت کے عہدے کے لیے حمایت کے بارے میں ذکاء اشرف نے کہا کہ یہ حمایت بدستور موجود ہے۔ مصطفی کمال آئی سی سی کی آئینی ترامیم کے بعد براہ راست ایک سال کے لیے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے کیونکہ بھارت کی تجویز تھی کہ آئینی ترامیم کے ہوتے ہوئے پہلے انہیں نائب صدر بنانے سے غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ دبئی میں آئی سی سی کے اجلاس کے دوران ان کی بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن سے غیر رسمی ملاقات بھی ہوئی اور اس مرتبہ انہیں سری نواسن مختلف روپ میں دکھائی دیے، ان کا رویہ اچھا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ پاک بھارت کرکٹ روابط شروع کرنے کے لیے سوچ رہے ہیں ۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ ممکن ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو کہ گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری نے بھی بھارتی دورے میں وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ روابط کی بحالی کے بارے میں بھی بات کی تھی جس پر بھارتی وزیراعظم نے مثبت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ یقیناً انہوں نے بی سی سی آئی کو اس بارے میں ضرور کہا ہوگا۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ سری نواسن کی مثبت گفتگو سے انہیں برف پگھلتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاک بھارت کرکٹ روابط بھی جلد بحال ہونگے اور ہونے بھی چاہیں کیونکہ ا س سے کروڑوں شائقین وابستہ ہیں اور اس کے نہ ہونے سے وہ دنیا کی سب سے دلچسپ کرکٹ دیکھنے سے محروم ہیں۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ پاکستان میں پریمیئر لیگ سے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں بہت زیادہ مدد ملے گی کیونکہ جب غیر ملکی کھلاڑی یہاں آئیں گے تو پاکستان کے بارے میں مثبت سوچ قائم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ متعدد غیر ملکی کھلاڑی پاکستان پریمئر لیگ میں شرکت میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں