گیاری کا راز: ’بس مرد ہی جانتے ہیں‘

سکندر حسین
Image caption بلتی رواج کے مطابق خواتین کو گیاری حادثے کا نہیں بتایا

’ہم بولے گا تو پتہ چلے گا۔ ٹی وی ہم نے بند کیا ہوا ہے۔ ریڈیو ہم نے بند کیا ہوا ہے۔ کیسے پتہ چلے گا؟‘

سکردو کے گاؤں کھرمنگ مرول کے سکندر حسین بضد ہیں کہ سِکس این ایل آئی کے نائیک کلرک کی بیوی اور بچوں کو علم نہیں ہونا چاہیے کہ اُن کے ہاں عنقریب صفِ ماتم بچھ سکتی ہے۔

نائیک کلرک کی دو بیٹیاں ہیں اور بیٹا ایک ماہ پہلے پیدا ہوا۔ وہ ستائیس مارچ کو چھٹیاں گزارنے کے بعد، گیاری سیکٹر میں ڈیوٹی پر گئے اور سات اپریل کو وہیں پر تھے جب اُن کی بٹالین کو گلیشیئر کے تودے نے آ لیا۔

لیکن اس بات کا علم سکندر حسین سمیت نائیک کلرک کے صرف دو بھائیوں کو ہے جبکہ اُن کی بیوی اور چار بہنیں تاحال لاعلم ہیں۔

’خواتین کو بتایا ہی نہیں۔ ہم نے راز میں رکھا ہوا ہے۔ یہ ہمارا بلتی رواج ہے۔ ابھی تک یونٹ کی طرف سے ہمیں کوئی اطلاع نہیں آئی۔ فوت ہو گیا تو اُس حساب سے بتا دیں گے اور زندہ ہوا تو خود ہی واپس آ جائے گا۔‘

صرف سکندر حسین ہی نہیں، بلتستان کے بتیس گھرانوں میں سے بیشتر ایسے ہیں جہاں، گیاری سیکٹر کے حادثے میں، اپنے نقصان کے بارے میں، خاندان کے صرف مرد اراکین جانتے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کو لاعلم رکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کی این ایل آئی یعنی ناردرن لائٹ انفنٹری کے زیادہ تر عملے کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔

سات اپریل کو گیاری سیکٹر پر گرنے والے گلیشیئر کے تودے تلے سِکس این ایل آئی کے ایک سو انتالیس اہلکار دب گئے۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ یا آئی ایس پی آر کے مطابق اِن میں سے اڑسٹھ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔

Image caption دا حسین نے نو دن خود جا کر گلیشیئر کی کھدائی میں حصہ لیا

گلگت ڈویژن کے چونتیس، جبکہ بلتستان ڈویژن میں ضلع سکردو کے چوبیس اور ضلع گانگچھے کے آٹھ اہلکار گیاری سیکٹر میں دبے ہوئے ہیں۔

تحصیل ڈوغونی کے گاؤں کھرکُوہ لہر میں، چوبیس سالہ نذیر حسین آجکل اِس تگ و دو میں ہیں کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اُن کے بھائی کے بارے میں یہ خبر غلط ثابت کریں کہ وہ سات اپریل کو گیاری سیکٹر میں تھے۔

’وہ کبھی گوما سے آگے نہیں گئے، نہ اُن کا کام تھا کیونکہ وہ فوج میں ترکھان ہیں۔ آئی ایس پی آر والوں کو کیا پتہ؟ وہ راولپنڈی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیاچن میں موجود ہمارے گاؤں کے ایک فوجی نے بتایا ہے کہ اُن کے بھائی کو ایک میجر ساتھ لے گئے تھے۔ میرے پاس نمبر بھی ہے لیکن میں خود جا کر تصدیق کروں گا کیونکہ فون پر سب جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

اسی طرح نذیر حسین کو سِکس این ایل آئی میں ہی اپنے بھائی کی تلاش ہے جن سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

اِس صورتحال سے نذیر حسین کے والد اور والدہ دونوں بے خبر ہیں۔ اُن کے سب سے بڑے بھائی غلام نبی فور این ایل آئی میں تھے جو دو ہزار دو میں ڈیوٹی کے دوران پہاڑی تودے کے نیچے دب کر چل بسے۔

نذیر حسین اور سب سے چھوٹے بھائی نے بہانہ کر رکھا ہے کہ گھر کے ٹی وی اور ریڈیو خراب ہو چکے ہیں تاکہ والد اور والدہ کو خبر نہ ہو اور وہ پریشان نہ ہوں۔

ضعیف العمر والدین بے خبر ہیں جبکہ اِس خاندان کو درپیش حادثے کے بارے میں سارا گاؤں جانتا ہے۔ گاؤں میں انجان لوگوں یا گاڑی کی آمد پر راہگیر درخواست کرنے لگتے ہیں کہ وہاں کی راز داری کو سبوتاژ نہ کیا جائے۔

ضلع سکردو میں کوواردو کے فدا حسین ٹو این ایل آئی میں سپاہی ہیں۔ سِکس این ایل آئی میں اُن کے بھائی لانس نائیک بھی، گیاری سیکٹر میں گلیشیئر کے تودے تلے دبے ہوئے ہیں۔ فدا حسین نو دن تک خود جا کر گیاری سیکٹر میں کھدائی کرتے رہے۔ اس بارے میں فوج ہی میں کام کرنے والے تیسرے بھائی کو بھی خبر ہے البتہ خاندان کی خواتین تاحال بے خبر ہیں۔

بلتستان میں اِس رازداری اور تصدیق کے انتظار کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ملتے جلتے نام ہیں۔ نذیر حسین، سِکس این آئی میں باورچی کی حیثیت سے کام کرنے والے بھائی کی تلاش میں ہیں۔

نذیر حسین اور اُن کے گاؤں والوں کو فوجی ترکھان کے گیاری سیکٹر میں دبنے کا یقین اس لیے نہیں کیونکہ اُن کے بقول اسی گاؤں کے حوالدار غلام محمد کی تصویر ٹی وی پر آئی تھی حالانکہ وہ چھٹیوں پر تھے اور واپس ڈیوٹی پر جانے کے بعد تاحال اپنے خاندان سے رابطے میں ہیں۔

آئی ایس پی آر کی فہرست میں شامل واحد حوالدار کا پتہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادیِ نیلم سے ہے۔

فوجی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گیاری سیکٹر کے حادثے کے بعد، وہاں دبے ہوئے فوجیوں کی فہرست، یومیہ حاضری کے رجسٹر کی بنیاد پر تیار کی گئی۔ امکان ہے کہ فہرست میں دیئے گئے ناموں اور اصل انفرادی موجودگی میں، کچھ حد تک فرق ہو۔

Image caption ’برف کے نیچے آکسیجن ملتی ہے‘

بلتستان میں راز داری اور تصدیق کے انتظار کی دوسری وجہ یہاں کے لوگوں کے ذاتی تجربات ہیں۔ میدانی علاقوں کے رہائشیوں کے برعکس یہاں کے لوگ، سیاچن گلیشیر کی نبض بخوبی جانتے ہیں۔

سکردو شہر کے رہائشی حسین عباس کے بھائی، فوجی کلرک بھی چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب گیاری سیکٹر میں تعینات تھے۔

’برف کے نیچے آکسیجن ملتی ہے۔ یہاں پر لوگ ایک ہفتے تک دبے رہنے کے بعد بھی زندہ نکلے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میرا بھائی غازی ہو کر واپس آئے گا۔‘

نذیر حسین اپنےگاؤں کے چند لوگوں کی مثال دیتے ہیں جو اُن کے بقول ’ایک مہینے‘ تک برف میں دبے رہنے کے بعد زندہ نکل آئے۔

’اگر برف اندر نہ آ جائے تو کوارٹر کے اندر زندہ رہا جا سکتا ہے۔‘

کوواردو سے گیاری سیکٹر جا کر کھدائی میں حصہ لینے والے ٹو این ایل آئی کے فدا حسین، اپنے بھائی لانس نائیک کے زندہ بچنے کی امید اِس بنیاد پر نہیں رکھتے کہ اُن کے خیال میں فوج کے ریسکیو آپریشن کا طریقہ غلط ہے۔

’اگر یہ پہاڑوں کے ساتھ ساتھ سیدھی کھدائی کرتے تو پھر مل سکتا ہے ورنہ جس حساب سے یہ لگے ہوئے ہیں، اس طرح تو زندہ ملنا بہت مشکل ہے۔‘

تجربے اور ابہام نے بلتستانی رازداری کو تقویت دے دی ہے اور سیاچن کے محاذ کے لیے ناردرن لائٹ انفنٹری کو سب سے زیادہ جوان دینے والی دھرتی گیاری سیکٹر میں جاری ریسکیو آپریشن کے نتائج کی منتظر ہے۔

اسی بارے میں