پاکستان: کابینہ کے محکموں کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو وفاقی وزراء فردوس عاشق اعوان اور مولا بخش چانڈیو کے محکمے تبدیل کیے گئے ہیں

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نئے حلف اٹھانے والے چار وفاقی وزراء اور دس وزرائے مملکت کے محکموں کا اعلان کردیا ہے جبکہ دو وفاقی وزراء کے محکمے تبدیل کردیے گئے ہیں۔

وفاقی وزراء میں راجہ پرویز اشرف کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، قمرالزمان کائرہ اطلاعات و نشریات، نذر محمد گوندل کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ اور رانا فاروق سعید خان کو ماحولیاتی ترقی کے محکمے دیے گئے ہیں۔

دو وفاقی وزراء فردوس عاشق اعوان اور مولا بخش چانڈیو کے محکمےتبدیل کیےگئے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کو نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز جبکہ مولا بخش چانڈیو کو سیاسی امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے فردوس عاشق اعوان اطلاعات و نشریات اور مولا بخش چانڈیو قانون و انصاف رہ چکے ہیں۔

وزرائے مملکت میں سید صمصام بخاری اطلاعات، تسنیم قریشی پانی و بجلی، ملک عماد، خارجہ، ملک عظمت، بین الصوبائی، راحیلہ بلوچ، سائنس و ٹیکنالوجی، عباس خان آفریدی تجارت، معظم خان جتوئی، زرعی تحقیقات، سلیم حیدر دفاع، امتیاز صفدر وڑائچ، داخلہ اور دوست محمد خان مزاری کو مواصلات کے محکمے دیے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین کی تعداد پچپن تک جا پہنچی ہے جس میں چونتیس وفاقی وزراء اور سترہ وزرائے مملکت ہیں۔ ان میں وزیرِ اعظم کے چار مشیر اور تین معاون خصوصی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت کابینہ کے اراکین کی تعداد پارلیمان کی تعداد کے گیارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور اس اعتبار سے موجودہ کابینہ میں انچاس وزیر رکھے جا سکتے ہیں اور اس کے علاوہ آئین کے تحت وزیرِاعظم کو پانچ مشیر رکھنے کی بھی اجازت ہے تاہم اٹھارویں آئینی ترمیم میں یہ بھی لکھا ہے کہ وزراء کی تعداد کے بارے میں جو شق ہے اس کا اطلاق آئندہ عام انتحابات کے بعد بننے والی حکومت پر ہوگا۔

حلف اٹھانے والے تمام وزارء کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی سے ہے اور اب کی بار کابینہ میں کی گئی توسیع میں کسی اتحادی جماعت کو نمائندگی نہیں دی گئی جس کے بارے میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کو کچھ تحفظات ہیں لیکن وہ کھل کر اس کا اظہار کرنے سے بظاہرگریزاں ہیں۔

اسی بارے میں