سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے: کیانی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو سیاچن سمیت تمام مسائل عوامی فلاح و بہبود کے لیے حل کرنے چاہیں اور دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پر امن رہیں۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو صدرِ پاکستان آف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمٰن ملک کہ ساتھ سیاچن کے گیاری سیکٹر کا دورہ کرنے کے بعد سکردو کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔

آرمی چیف نے کہا کہ سیاچن پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایک مشکل ترین محاذ جنگ ہے اور اس پر دونوں ممالک کے بیش بہا اخراجات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاچن کا مسئلہ حل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ کیسے حل کرنا ہے اس بارے میں دونوں ممالک بات چیت کریں۔ ایک وقت پر ہم اس معاملے کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن حل نہیں ہوا۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔‘

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ کچھ سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالف ہے کیونکہ اس کی بنا پر ہی بڑی تعداد میں فوج رکھنے کا جواز بنتا ہے۔ لیکن آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس تاثر کو رد کیا۔ ماضی میں پاکستان میں ایسے مواقع کم ہی آئے ہیں کہ آرمی چیف عوام کی فلاح و بہبود کی بات کریں اور بھارت سے تمام مسائل پر امن طریقے سے حل کرنے کا بیان جاری کریں۔

آرمی چیف نے کہا کہ سیاچن کے حل کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے ہیں اور آخری بار سال ڈیڑھ سال قبل پاکستان کے سیکریٹری دفاع بھارت گئے۔ ان کے بقول بھارت کے ساتھ تمام تنازعات حل ہونے چاہیں۔ ان کے بقول دفاع اور ترقی پر توازن سے رقم خرچ کرنی چاہیے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف دفاع پر رقم خرچ کی جائے اور ترقی کو بھلا جائے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ’کسی ملک کی سلامتی سرحدوں کے محفوظ ہونے میں نہیں ہوتی بلکہ اصل سلامتی عوام کی ترقی اور خوشحالی میں ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دفاع پر اخراجات کم ہوں اور عوام کی فلاح و بہبود پر زیادہ خرچ ہو اور اس پر کوئی اختلاف رائے بھی نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انیس سو چوراسی سے پاکستانی فوج سیاچن میں موجود ہے اور یہ اس لیے نہیں کہ پاکستان ایسا چاہتا ہے بلکہ یہ بھارت کی وجہ سے ہے۔

ان کے بقول گلیشئر دریاؤں کی خوراک ہیں اور یہاں ماحول ٹھیک رہنا چاہیے۔ ’پاکستان کا سب سے اہم دریا، دریائے سندھ یہاں سے نکلتا ہے۔ افواج کے یہاں رہنے سے ماحول خراب ہوتا ہے۔ خطے کا بلکہ دنیا کے ماحول پر اثر پڑے گا۔ یہ ایک گلیشئر ہے اور اُسے گلیشئر ہی رہنا چاہیے۔ کوئی ایک بھی اچھی وجہ نہیں کہ یہاں فوجیں رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چھ ماہ لگیں یا چھ سال، اپنے دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے: جنرل کیانی

امدادی کاموں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور برفانی پہاڑ کھودنا پڑا تو کھودیں گے اور دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے۔ تاہم انہوں نے اتفاق کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچنا ایک معجزہ ہوگا۔ لیکن ان کے بقول مثبت امید رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ لگیں یا چھ سال وہ اپنے دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی گیاری کا فضائی دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سیاچن کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کو حل کرنا چاہیے اور پاکستان کو اس کے لیے پہل کرنی چاہیے۔ ان کے اس بیان پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ یہ میاں صاحب کا اپنا موقف ہے۔

دریں اثناء بدھ کو صدر آصف علی زرداری نے بھی سیاچن کے گیاری سیکٹر کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کا فضائی جائزہ لیا۔ بدھ کی صبح وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ہمراہ وہ سکردو کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو گلگت بلتستان کے گورنر، وزیراعلیٰ، آرمی چیف اور متعلقہ کور کمانڈر نے ان کا خیر مقدم کیا۔

صدر نے بعد میں آرمی چیف کے ہمراہ گیاری سیکٹر کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے امدادی کاموں کا فضائی معائنہ بھی کیا اور کہا کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ایوان صدر کو باخبر رکھا جائے۔

اسی بارے میں