’استثنیٰ صرف بیرون ملک دورے کے دوران ہے‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے صدر آصف علی زرداری کو کیا فرق پڑے گا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی۔

منگل کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سربراہ نے یہ ریمارکس دیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے جس پر وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت دنیا بھر میں صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور عدالتیں اس کو تسلیم کرتی ہیں۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران چوہدری اعتزاز احسن نے صدر کے استثنیٰ سے متعلق بین الاقوامی حوالے دیے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی عدالتوں کے ساتھ ساتھ ملکی عدالتوں میں بھی صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور اُن کے خلاف فوجداری اور دیوانی مقدمات کی سماعت اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ صدر کے عہدے پر فائض ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سوئس عدالتوں میں آصف علی زرداری کے شریک ملزم بری ہو چکے ہیں لہٰذا جب تک وہ صدر کے عہدے پر فائض ہیں اُس وقت تک خط لکھنے کے عمل کو موخر کر دیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس کو استثنی حاصل ہے اُس کو چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے اور یہاں پر تو ایک شخص (وزیر اعظم) یہ سمجھ کر سوئس حکام کو خط نہیں لکھ رہا کہ چونکہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرتے ہوئے سوئس حکام کو خط نہیں لکھنا۔ اُنہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن میں صدر کے استثنیٰ کا ذکر نہیں ہے۔

جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے صدر آصف علی زرداری کو کیا فرق پڑے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو خط لکھ دینا چاہیے باقی معاملہ صدر خود دیکھ لیں گے جس پر چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے میں سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ عدالت نے تو صرف یہ کہا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سوئس عدالتوں میں مقدمات ختم کرنے کے لیے جو خط لکھا تھا اُس کو واپس لینے کے لیے خط لکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کیوں کہیں گے کہ صدر کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا اور سوئس حکام کو خط لکھا جائے گا لیکن اُس وقت جب آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر نہیں ہوں گے۔ اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وقتی مشکل کی وجہ سے اس معاملے کو موخر کردیا جائے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے اس کو کیسے موخر کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت صدر یا وزیر اعظم کو جیل نہیں بھجوانا چاہتی کیونکہ صدر بھی ہمارے ہیں اور وزیر اعظم بھی۔ سپریم کورٹ تو صرف یہ چاہتی ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے۔

اس سے پہلے اعتزاز احسن نے آرٹیکل دس اے کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس بینچ نے اُن کے موکل پر فرد جُرم عائد کی ہے اس لیے یہ بینچ اُن کے خلاف کارروائی کی سماعت نہیں کر سکتا۔ اس مقدمے کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی گئی اور عدالت نے اعتزاز احسن کو جمرات تک اپنے دلائل مکمل کرنے کو کہا ہے۔

اسی بارے میں