بولٹ خوب سے خوب تر کے خواہشمند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگ میری جانب دیکھ رہے ہیں کہ میں انہیں نو اعشاریہ چار اور انیس سیکنڈز میں دوڑ کر انہیں حیران کردوں: یوسین بولٹ

اولمپکس مقابلوں میں تین طلائی تمغے جیتنے والے سپرنٹر یوسین بولٹ لندن اولمپکس میں ایک سو میٹر کی دوڑ نو اعشاریہ چار سیکنڈز اور دو سو میٹر کی دوڑ انیس سیکنڈز میں مکمل کر کے دنیا کو حیران کرنے کے خواہشمند ہیں۔

جمیکا سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ یوسین بولٹ کے پاس ایک سو میٹر اور دو سو میٹر دونوں فاصلوں کو کم سے کم وقت میں عبور کرنے کا ورلڈ ریکارڈ ہے جو انہوں نے یہ فاصلے بالترتیب نو اعشاریہ پانچ آٹھ اور انیس اعشاریہ ایک نو سیکنڈز میں مکمل کیے تھے۔

انہوں نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا ’لوگ میری جانب دیکھ رہے ہیں کہ میں نو اعشاریہ چار اور انیس سیکنڈز میں دوڑ کر انہیں حیران کردوں۔ اسی لیے میں زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک محنت کر رہا ہوں تاکہ میں جتنا تیز ممکن ہو دوڑ سکوں۔‘

انہوں نے کہا مزید شاندار کارکردگی جیسا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار آٹھ کے اولمپکس میں دکھائی اور تین طلائی تمغے حاصل کیے انہیں کامیابیوں کی بلندی پر پہنچا سکتی ہے۔

اولمپکس کے تیراکی کے مقابلوں میں چودہ طلائی تمغے حاصل کرنے والے امریکی تیراک مائیکل فلیپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کھیل کے کیریئر میں جو چاہا حاصل کیا اور کامیاب رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لندن اولمپکس اب میرے لیے بطور ایتھلیٹ آخری موقع ہے: مائیکل فلیپ

’لندن اولمپکس اب میرے لیے بطور ایتھلیٹ آخری موقع ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بار بھی اس میں ایسا ہی ہو جیسا میں چاہتا ہوں اور اس کے لیے میں ہر ممکن حد تک محنت کر رہا ہوں تاکہ نتیجہ میری خواہش کے مطابق آئے۔‘

انگلینڈ کے فٹبالر ڈیوڈ بیکہم کو امید ہے کہ وہ برطانیہ کی ٹیم کا حصہ ہوں گے اور انہیں فخر ہوگا کہ وہ اپنے ہی ملک میں کھیلیں۔

’وسطی لندن جہاں میں پلا بڑھا ہوں وہاں مجھے کھیلنا ہوگا، مجھے یقین نہیں آ رہا۔ میں اولمپکس کا شائق ہوں اور اپنے ہی شہر میں جہاں میں بڑا ہوا وہاں اپنے بیٹوں اور بیٹی کو لے کر جاؤں گا، مجھے اس بات پر بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘

اسی بارے میں