’طالبان عدنان کو بلند آواز ڈھونڈتے رہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدنان رشید کو دو ہزار تین میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چِچی میں ہونے والے پہلے حملے میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بنوں جیل سے فرار ہونے وا لے تین سو سے زائد قیدیوں میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث عدنان رشید واحد ایسے اہم ملزم ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ طالبان نے ان کی رہائی کے لیے جیل توڑنے کی ساری منصوبہ بندی کی۔

جیل حکام اور قیدیوں کا کہنا ہے کہ مسلح عسکریت پسند جب جیل کے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے پھانسی گھاٹ کا رخ کیا جہاں وہ عدنان رشید کا نام بلند آواز میں لے کر اسے ڈھونڈتے رہے۔

عدنان رشید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں چھوٹا لاہور سے ہے۔ وہ پاک فضائیہ میں ائر مین کے عہدے پر فائز تھے جب انہیں دو ہزار تین میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چِچی میں ہونے والے پہلے حملے میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

عدنان رشید کو دو ہزار پانچ میں ایک فوجی عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی اور وہ جیل میں پھانسی کے منتظر تھے۔ وہ پچھلے آٹھ برسوں سے ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہے ہیں۔

عدنان رشید جیل کے اندر موبائل فون کو باقاعدگی سے استعمال کرتے رہے اور اکثر اوقات صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے میں خاصے متحرک تھے۔

ایک سال قبل انہوں نے ہری پور جیل سے بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار رحمان اللہ کو موبائل فون کے ذریعے سے ایک تفصیلی انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے پرویز مشرف پر حملے اور اپنے کیس کے حوالے سے کھل کر بات کی۔

انہوں نے مجھ سے بھی کئی مرتبہ ایس ایم ایس کے ذریعے رابط کیا اور اکثر اوقات جیل حکام کی رویے کے خلاف شکایتیں کرتے تھے۔

ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ملک کے جیلوں کے بارے میں لکھنا چاہیے جہاں ان کے مطابق سزائے موت کے ملزمان کو سخت سردی کےموسم میں چوبیس گھنٹے تک پھانسی گھاٹ میں رکھا جاتا ہے جس سے وہ کئی قسم کے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

وہ ہر بار یہ درخواست بھی کرتے تھے کہ حکام کے سامنے ان کی شناخت کو ظاہر نہ کیا جائے ورنہ ان سے موبائل فون چھین لیا جائے گا اور پھر وہ اپنے خاندان سے رابط نہیں کر سکیں گے۔

عدنان رشید کا دعویٰ تھا کہ پرویز مشرف پر حملے کے حوالے سے ان کے خلاف بنائے گئے کیس میں انہیں حملے کا ماسٹر مائنڈ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ ان کے بقول وہ براہ راست حملے میں ملوث نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو ہزار دو میں بحثیت پاک فضائیہ کے ایک ملازم کے پرویز مشرف کے ریفرینڈم میں کھل کر مخالفت کی اور ان کے خلاف ’نہیں‘ میں ووٹ دیا تھا۔

انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ وردی میں رہ کر پرویز مشرف کی مخالفت کی انہوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے کیونکہ ’نہیں‘ میں ووٹ دینے کے بعد سارے خفیہ ادارے ان کے خلاف سرگرم ہوگئے اور ان کی نگرانی شروع کر دی۔

’میں مانتا ہوں کہ وردی میں رہ کر مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن اس وقت میں فضائیہ میں نیا نیا آیا تھا جوان بھی تھا۔ کسی بات کا ہوش نہیں تھا اس لیے مجھ سے یہ غلطی سر زد ہوگئی۔‘

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ میں بری فوج کے مقابلے میں ماحول تھوڑا سا اچھا ہے۔ وہاں اپنے محکمے کے خلاف بات ہو سکتی ہے اور افسران پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔ عدنان رشید کے بقول نائن الیون کے بعد وہ اکثر اوقات ائر فورس میں مباحثوں اور ملاقاتوں کے دوران پرویز مشرف کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر کھلے عام تنقید کرتے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں اس حملے میں ملوث کیا گیا۔

عدنان رشید سے جب انٹرویو کے دوران یہ سوال بار بار پوچھا گیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ پھانسی گھاٹ میں بیٹھ کر اتنے سکون سے کسی غیر ملکی نشریاتی ادارے کو موبائل فون کے ذریعے سے انٹرویو دے رہے ہیں اور حکام کو اس کا علم ہی نہ ہو تو انہوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان ہے یہاں پیسے کے ذریعے سے سب کچھ ممکن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جیل میں موبائل فون اور سم کارڈ بلیک میں فروخت ہوتے ہیں اور کرائے پر بھی دستیاب ہیں۔ عدنان رشید جیل سے باقاعدگی سے فیس بک کا بھی استعمال کرتے تھے اور کبھی کبھار وہ بلاگ بھی لکھا کرتے تھے۔

اسی بارے میں