کراچی: چائے ہوٹلوں پر حملے، چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہر میں چائے کے اکثر ہوٹل پشتون کمیونٹی کے لوگ چلاتے ہیں تاہم اس وقت واضح نہیں کہ ان حملوں کا نشانہ کون تھا۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کراچی میں چائے کے ہوٹلوں پر فائرنگ کے دو واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بدھ کے روز نارتھ ناظم آباد بلاک این میں چائے کے ایک ہوٹل پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ہوٹل پر کام کرنے والے ایک ملازم سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت صنوبر خان اور لطیف سومرو کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یاد رہے کہ شہر میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔

پولیس کے مطابق مقتول لطیف سومرو ایک نجی کمپنی میں ملازم تھے اور وہ ہوٹل پر چائے پینے آئے تھے جہاں گولی کا شکار ہوگئے۔

اس سے پہلے گزشتہ شب پہاڑ گنج کے علاقے میں ایک اور ہوٹل پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں ہوٹل کا مالک الھ دوست، اس کا بیٹا مطیع اللہ اور ملازم محمد عباس ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ شہر میں چائے کے اکثر ہوٹل پشتون کمیونٹی کے لوگ چلاتے ہیں تاہم اس وقت واضح نہیں کہ ان حملوں کا نشانہ کون تھا۔

واقعے کے خلاف پہاڑ گنج کے رہائشی لوگوں نے بدھ کو احتجاج کیا، اور کٹی پہاڑی جانے والی سڑک پر پتھراؤ کرکے ٹریفک کو معطل کردیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی موجودگی کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

مزید براں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ہی دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں جن پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔ ان کی شناخت میاں گل اور سردار ولی کے نام سے ہوئی، جو دونوں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن ہیں۔

ادھر ٹیکنیکل کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر عمران زیدی کی نمازِ جنازہ بدھ کو رضویہ امام بارگاہ میں ادا کی گئی، جہاں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مقتول کو منگل کے روز ناظم آباد میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان، آئی جی پولیس اور ڈی جی رینجرز جواب دیں کہ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے باوجود شیعہ افراد کا قتل عام کیوں جاری ہے ؟

تنظیم کے رہنما محمد مہدی کا کہنا ہے کہ کراچی کے ضلع وسطی خاص طور پر اہلِ تشیع کی مقتل گاہ بن چکا ہے، جہاں تین سال میں سو سے زائد عمائدین کو قتل کیا جاچکا ہے۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عمران زیدی کے قتل کے واقعے کو شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش قرار دیا اور حکام سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں