’ہر طرف انسانی اعضا تھے، قیامت کا منظر تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسلام آباد ائیر پورٹ کے قریب ہونے کے باعث حادثے کی اطلاع ملتے ہی میں فوری طور پر جائے حادثہ کی جانب روانہ ہوگئی۔

جائے حادثہ کی طرف جانے والے علاقے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور فوج کی بیشتر گاڑیاں اس جانب جا رہی تھیں۔

کئی مقامات پر روکے جانے کے باوجود ہم حسین آباد نامی گاؤں میں پہنچ گئے جہاں یہ جہاز گرا تھا۔

جہاز کے زمین پر گرنے سے بجلی کے تار ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے علاقے میں بجلی کا نظام منقطع ہو گیا۔ جہاز کا ملبہ کھیتوں اور کئی گھروں میں گرا ہوا تھا۔ جہاز کی کرسیاں قریبی مکانات کی دیواریں توڑ کر اندر گری ہوئیں تھیں۔ کھیت میں انسانی اعضاء، کپڑے، جوتے اور کتابیں بکھری پڑی تھیں۔

علاقے میں تاریکی ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں نہایت دشواری پیش آ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے ریسکیو اور فوجی اہلکار تمام شہریوں کو وہاں سے ہٹا رہے تھے۔

جہاز گرنے کے باعث چند مکانوں کو نقصان ہوا ہے تاہم علاقے کے لوگوں کے مطابق کسی مکین کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثہ میں متاثر ہونے والے ایک مکان کی رہائشی سنیہ اشتیاق نے بتایا کہ وہ لوگ گھر میں تھے کے باہر موجود ان کے والد نے اندر آ کر کہا کہ ’باہر نکلو جہاز تباہ ہو گیا ہے۔‘

حادثے کی دہشت سے لرزتی ہوئی سنیہ نے بتایا کہ ’ہم باہر نکلے تو ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔ جہاں قدم رکھتے تھے آگ تھی۔ میں، میری امی اور دو بھائی بڑے مشکل سے وہاں سے نکلے۔‘

سنیہ نے بتایا جب وہ جان بچا کر ساتھ والے گھر میں پہنچیں تو وہاں بھی آگ اور لاشیں تھیں۔ انہوں نے اس حادثے کو قیامت قرار دیتے ہوئے کہا وہ اس خوفناک منظر کو بھول نہیں سکتیں۔ جائے حادثہ کے قریب واقعے گھروں سے خواتین اور بچوں کو وہاں سے قدرے فاصلے پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ جہاز تین بار زمین سے ٹکرایا اور پھر بلند ہوا اور اس کے بعد مکانوں سے ٹکرایا۔

ایک عینی شاہد محمد ساجد نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کی جانب جار رہے تھے کہ انہوں نے جہاز کو زمین کے انتہائی قریب آتےدیکھا۔ انہوں نے بتایا ’جہاز زمین کے بہت قریب آگیا تھا اور پھر اس کے بائیں انجن میں دھماکہ ہوا جس کے بعد جہاز زمین پر گرگیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے حادثہ پر پہنچے تو بیشتر مسافروں کی آدھی ادھوری لاشیں سیٹوں سے بندھی ہوئی تھیں جبکہ کچھ لاشیں جائے حادثہ کے آس پاس واقع گھروں میں بھی گریں۔

جائے حادثہ کے قریب کام کرنے والے ایک مزدور نے بتایا کہ وہ اپنے خیمے میں بیٹھا تھے کے انہیں جہاز کی آواز انتہائی قریب سے سنائی دی۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا تو جہاز ڈولتا ہوا دو مرتبہ زمین سے ٹکرایا اور تیسری مرتبہ ٹکرانے پر اس میں دھماکہ ہوگیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کچھ دیر کے لیے ہر طرف تیز روشنی پھیل گئی۔ ان کے مطابق کافی دیر تک وہاں آگ لگی رہی۔

جائے حادثہ پر پہنچنے والی شہری دفاع کی پہلی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے لاشوں کے قریب پڑے کاغذات، قیمتی سامان ، زیور اور نقدی کو اکھٹا کیا جسے بعد میں علاقے کی اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے کر دیا گیا۔

حادثے کے چار گھنٹے کے بعد علاقے میں جزوی طور پر بجلی بحال کر دی گئی جس کے بعد امدادی کارروائیوں میں قدرے تیزی آئی۔

جائے حادثہ پر اکھٹے ہو جانے والے عوام کی بڑی تعداد امدادی کاموں میں خلل کا باعث بن رہی تھی۔ لوگوں کے رش کی وجہ سے ایمبولینسیں نہ تو جائے حادثہ پر آ پا رہی تھیں اور نہ ہی وہاں سے باہر نکل سکی ہیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کے ٹکڑے ایک ڈھیر کی شکل میں سڑک کنارے جمع کر رکھے تھے۔ عوام کو ہٹانے کے لیے فوج نے علاقے کا انتظام سنبھال لیا تھا جس کے بعد میڈیا کو بھی جائے حادثہ پر رکنے نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں