اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا منظر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہوائی جہاز کے حادثے کی خبر ملتے ہی ساڑھے سات بجے کے قریب اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز پہنچا تو وہاں پر ہنگامی حالت کا نفاذ کیا جا چکا تھا اور ہسپتال کے شعبہ حادثات کے درواوزے بند کر دیے گئے تھے اور جو مریض باہر تھے وہ باہر ہی رہ گئے اور جو اندر تھے کہ ان کے عزیزوں کا اندر داخلہ بند ہو چکا تھا۔

میڈیا کی ایک بڑی تعداد، ہسپتال کا عملہ اور ہسپتال میں موجود اور خبر سن کر باہر سے آنے والے افراد کی نظریں ہسپتال کے مرکزی دروازے پر جم گئیں۔

اس دوران کوئی ایمبولنس ہسپتال میں داخل ہوتی کمیرہ مین اس کو فوری گھیرے میں لے لیتے اور اس دوران ہسپتال کے اہلکاروں کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ براہ مہربانی پیچھے ہٹ جائیں یا’ عام مریض‘ ہے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا اور اب تک ہوائی جہاز میں سوار مسافروں کا کوئی رشتہ دار عزیز ہسپتال نہیں پہنچا تھا۔

اس دوران صحافیوں کو بتایا گیا کہ امدادی کاموں میں مشکلات اور راستے میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ابھی تک ایمبولینس جائے حادثہ سے روانہ نہیں ہوئیں ہیں۔

نو بجے کے قریب محمد آصف دکھ، بے یقنی اور صدمے کی حالت میں اپنے دیگر عزیزوں کے ساتھ اپنے چوبیس سالہ بھائی عثمان کی تلاش میں ہسپتال میں پہنچے۔

انہیں ہسپتال کے باہر کھڑے عملے نے بتایا کے ابھی تک کوئی زخمی یا میت ہسپتال نہیں لائی گئی، اس جواب سے ان کی ہمت جواب دیتی نظر آئی۔

محمد آصف کے بقول دو گھنٹے سے ائرپورٹ، راولپنڈی کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد اسلام آباد پہنچے ہیں لیکن یہاں بھی بھائی کی اب تک کوئی خبر نہیں مل رہی ہے اور کچھ لوگ جائے حادثہ کی جانب گئے ہیں لیکن وہاں سے بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ان کے عزیز ہر جگہ پھیل چکے ہیں لیکن کوئی معلومات نہیں مل رہی ہیں۔

اس کے بعد ہوائی جہاز میں سوار مسافروں کے عزیزوں، دوستوں اور جان پہچان کے لوگ آنا شروع ہوئے، جس سے ہوائی جہاز میں سوار افراد کے بارے میں معلومات ملنا شروع ہوئیں۔ روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم فراز کی بہن کی چھ مئی کو اسلام آباد میں شادی تھی وہ اس میں شرکت کے لیے کراچی سے آ رہے تھے، عامر کے والد حبیب الرحمان کاروباری مصروفیات نمٹانے کے بعد اسلام آباد واپس آ رہے تھے۔ عامراب ہپستال میں کھڑے اپنے گھر والوں کو جھوٹی تسلیاں دے رہے تھے کہ تسلی رکھیں کوئی اچھی خبر مل جائے گی۔

اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک کونے میں پریشان کھڑے مبشر احمد ابھی اپنے بھائی کی موت کو بھول نہیں پائے تھے کہ ایک نئی پریشانی نے گھیر لیا۔

مبشر احمد کے بقول’ اٹھائیس جولائی سال دو ہزار دس کو اسلام آباد میں اسی طرح گہرے بادل تھے اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور وہ ہسپتال میں اپنے چھوٹے بھائی محمد یوسف کے لیے یہاں اسی طرح حالت میں موجود تھے۔

مبشر احمد کے بھائی اٹھائیس جولائی کو اسلام آباد میں ائر بلیو کے اس ہوائی جہاز میں سوار تھے جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کی تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام ایک سو باون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اب مبشر احمد کی اہلیہ کے قریبی عزیز حادثے کا شکار ہونے والے ہوائی جہاز میں سوار تھے اور وہ اپنے عزیزوں کو مسلسل فون کر کے بتا رہے تھے کہ ابھی کسی زخمی یا میت کو ہسپتال نہیں لایا گیا۔

تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب اسلام آباد پولیس کی ایک موبائل ہسپتال کے ’او پی ڈی‘ کے سامنے آ کر رکی اور اس میں سے پولیس اہلکاروں نے انسانی اعضاء سے بھری ہوئیں گٹھڑیوں کو اتارنا شروع کیا تو مسافروں کے عزیز، رشتہ دار میڈیا، ہسپتال کے شعبہ حادثات کے دروازے کے سامنا کھڑا ہسپتال کا عملہ اس جانب دوڑ پڑا۔

ان گٹھڑیوں میں انسانی اعضا کو دیکھ کر مسافروں کے عزیزوں اور رشتہ داروں کے صبر کے پیمانے لبریز ہوئے اور ان کی آہ و پکار شروع ہو گئی، وہیں پولیس اہلکار ان گٹھڑیوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آئے۔

اس کے بعد ایمبولینس آنا شروع ہوئیں تو وہاں موجود مسافروں کے عزیز تیزی سے آگے بڑھ کر ایمبولینس میں دیکھتے کہ ان کے عزیز کا کچھ پتہ چل جائے لیکن ان میں سے صرف انسانی اعضاء کی گٹھڑیاں ہی برآمد ہو رہی تھیں جس سے ان کے کرب میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اب انسانی اعضاء تیزی سے ہپستال منتقل کیےجا رہے تھے اور سٹیچرز کی تعداد کم پڑتی دکھائی دی، چند لمحے پہلے سفید چادروں سے ڈھکے سٹیچرز پر اب چادریں نہیں تھیں اور وہ خون سے بھر چکے تھے، ایمبولینس آنے کا سلسلہ رک چکا تھا اور ہسپتال کا عملہ ان انسانی اعضاء کو زمین سے اکٹھا کر رہا تھا جو گٹھڑیوں کو ایمبولینس سے نیچے اتارتے وقت نیچے گر گئے تھے۔

ان سب حالات میں مسافروں کے عزیزوں، رشتہ داروں اور احباب کی ہمت جواب دے چکی تھی اور وہ بے بسی سے ان گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے جن میں خالی تابوت لائے جا رہے تھے۔