فضائی حادثہ اتنا بے رحم ہوتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فضائی حادثہ اتنا ہی بے رحم ہوتا ہے۔ اس بات کا اندازہ تو تھا لیکن جب حسین آباد گاؤں اور اس سے متصل کھیتوں میں انسانی اعضا بکھرے دیکھے تو بات سمجھ میں نہیں آئی کہ انسانی جسم کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیسے ہوئے اور کیوں بکھر گئے۔

حسین آباد اسلام آباد کے مضافات میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں پر بہت بڑا حادثہ گزر گیا۔ کراچی کے جناح ٹرمینل سے اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر آنے والی بھوجا ائیرلائنز کی پرواز بی ایچ او دو سو تیرہ اپنی منزل پر اترنے کے بجائے اس گاؤں پر گر گئی۔

حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ابتدائی لوگوں میں شامل ہونا پیشہ وارانہ فرائض کے طور پر اعزاز تو ہے لیکن اس موقع پر خاصا اذیت ناک بھی ثابت ہوا۔

حادثے کے فوراً بعد گاؤں کی بجلی چلی گئی تھی، ایسے میں گاؤں کی تنگ گلیوں سے گزرتے کبھی جہاز کے کسی پرزے سے ٹھوکر لگتی، کبھی کسی مسافر کا ہینڈ بیگ پاؤں تلے آتا اور کبھی گوشت کا لوتھڑا دکھائی دیتا۔

’سر آگے مت آئیں‘۔ اندھیرے میں گاؤں سے کچھ دور کھیت میں سے یہ آواز آئی تو میں رک گیا۔ دور کھڑے فوجی جوان سے وجہ پوچھی تو وہ کچھ نہ بولا بس ہاتھ میں پکڑی ٹارچ کی روشنی ایک جانب پھینک دی۔

کھیت میں گندم کٹ چکی تھی اور کٹی ہوئی فصل کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں بنا دی گئی تھیں۔ انہی ڈھیریوں میں ایک ذرا مختلف قسم کی ڈھیری دکھائی دی۔ ذرا توجہ دی تو محسوس ہوا کہ انسانی گوشت کا ڈھیر ہے۔ یہ جسم کا کون سا حصہ تھا، کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔

ذرا دور اسی گھپ اندھیرے میں رونے کی آواز آئی۔ گاؤں کا ایک مرد سسکیاں لے کر رو رہا تھا۔ ’یہ لوگ تو جنتی ہیں۔‘ میں اور فوجی جوان اس کی بات سن کی اس جانب لپکے۔ یہ غالباً جہاز کا وہ حصہ تھا جہاں مسافروں کی ابتدائی نشستیں ہوتی ہیں۔ سیٹوں کے بیچ میں ایک سے زیادہ جسم ایک دوسرے میں اور جہاز کا لوہا ان کے بیچ میں غلط ملط ہوچکا تھا۔ کس کا پاؤں کس جانب تھا اور کس کا سر کس کے جسم پر تھا، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

فوجی جوان نے اس دیہاتی کو سہارا دیا، میں نے اپنے آپ کو۔ ریسکیو کے عملے کو آواز دی وہ پہنچ تو گئے لیکن کسی کو کچھ سجھائی نہ دیا کہ ان ’لاشوں‘ کو کیسے باہر نکالا جائے۔

ذرا آگے بڑھا تو اس جگہ پہنچ گیا جہاں جہاز کے انجن پڑے تھے۔ پٹرول کی تیز بو اور ساتھ ہی ہلکی ہلکی دہکتی ہوئی آگ کی جانب وہاں موجود فوجی افسر کی توجہ دلوا کر ذرا دور ہٹ گیا۔

جہاز کا درمیانی حصہ ایک مکان کی چھت پر نظر آیا۔ اس مکان کی ایک دیوار گر چکی تھی اور مالک مکان نے بتایا کہ اس کی بھینس اس حادثے میں زخمی ہوئی ہے۔

اس مکان میں سول ایوی ایشن کے تکنیکی ماہرین کی ٹیم اسی وقت داخل ہوئی۔ ٹیم کے سربراہ اپنے ساتھیوں کو بتا رہے ہیں کہ زمین پر جہاز نہیں بلکہ اس کا ملبہ گرا ہے۔

’اگر پورا جہاز اس گاؤں پر گرا ہوتا تو نیچے بہت تباہی ہوتی۔ جہاز کے ایندھن سے آگ لگتی اور اس کے انجن کے چلتے ہوئے پرزے گھروں کے پرخچے اڑا دیتے۔‘

انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ جہاز کا اگلا حصہ دور کھیت میں گرا ہے، درمیانی حصہ مکان کی چھت پر لیکن دم نظر نہیں آ رہی جس میں بلیک بکس ہو گا۔

وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھ رہے تھے کہ جہاز کا آخری رابطہ کتنے بجے ہوا۔ انہیں بتایا گیا کہ زمین پر گرنے سے پندرہ منٹ پہلے جہاز کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ’ اس کا مطلب ہے جہاز کے اندر کوئی تکنیکی نقص پیدا ہوا تھا اور محض بارش اس حادثے کی وجہ نہیں ہے۔‘