سینئر صحافی کی پراسرار حالت میں ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعلیٰ تعلیم یافتہ مرتضیٰ رضوی دو کتابوں کے منصف تھے

کراچی میں سینئر صحافی مرتضیٰ رضوی کی پراسرار حالت میں لاش ملی اور پولیس کا خیال ہے کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

شہر کے پوش علاقے خیابان شمشیر کے علاقے میں واقع سٹوڈیو سے پولیس کو مرتضیٰ رضوی کی لاش ملی، پولیس کے مطابق لاش کے دونوں ہاتھ شرٹ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔

مرتضیٰ رضوی کی نمازے جنازہ ڈیفنس کی مقامی مسجد میں ادا کی گئی، جس میں ان کے رشتے داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔ بعد میں ڈیفنس قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔

پولیس کا خیال ہے کہ مقتول کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔ مقتول رات کو گھر نہیں پہنچے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ واقعہ ذاتی تنازع یا تکرار کا نتیجہ ہے۔ تاہم مرتضیٰ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اس لیے افواہیں نہ پھیلائی جائیں اور پولیس کو تفتیش کرنے دی جائے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے مرتضیٰ رضوی نامور صحافی تھے انہوں نے کئی اخبارات میں کام کیا، وہ انگریزی روزنامے ڈان کے لاہور میں مدیر تھے بعد میں کراچی منتقل ہوگئے، جہاں وہ بطور ڈان کے میگزین ایڈیٹر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

سیاست اور تاریخ میں پاکستان اور امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ مرتضیٰ رضوی دو کتابوں کے منصف تھے، جن میں جنرل پرویز مشرف کی سیاسی سوانح عمری اور عام پاکستانیوں کے انٹرویوز شامل ہیں۔

ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں