اسلام آباد: مسافر طیارہ گر کر تباہ، 127 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں مسافر طیارے کے حادثے میں ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حادثہ نجی ایئر لائن کمپنی بھوجا ایئر کے جہاز کو جمعہ کی شام پیش آیا ہے۔ بی ایچ او - 213 بوئنگ 737 طیارہ کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا اس میں ایک سو اکیس مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

اسلام آباد میں طیارے کا حادثہ: تصاویر

بی بی سی اردو کے رپورٹرز نے کیا دیکھا؟

ہر طرف آگ ہی آگ تھی

کراچی ہوائی اڈے پر حادثے کے بعد

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ طیارہ اسلام آباد کے نواح میں تھانہ کورال کے علاقے حسین آباد میں آبادی پرگر کر تباہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد جہاز کا ملبہ اور لاشیں بڑے علاقے میں پھیل گئیں۔

حادثے کے کچھ دیر بعد ہی امدادی کارکن اور فوج کی ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

جائے حادثہ پر ہی موجود فوج کی امدادی ٹیم کے افسر نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی آپریشن میں فوج کے علاوہ ریسکیو 1122، رینجرز، پولیس، سول انتظامیہ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایک سو دس افراد کے اعضاء جمع کر لیے گئے ہیں اور امدادی کام ساری رات جاری رہنے کا امکان ہے۔

سول ایوی ایشن کے ترجمان جارج فرنانڈس نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا ہے کہ یہ طیارہ پانچ بج کر پانچ منٹ پر کراچی سے روانہ ہوا تھا اور چھ بجکر چھیالیس منٹ پر حادثے کا شکار ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکمل کلیئرنس کے بعد ہی اس طیارے کو روانگی کی اجازت دی گئی تھی اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیم جائے وقوع پر پہنچ چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حادثے کے بعد امدادی کارکن اور فوج کی ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئیں

جب طیارہ تباہ ہوا اس وقت اسلام آباد اور اس کے گردو نواح میں طوفانی بارش جاری تھی اور تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔

نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق حادثے کے ایک عینی شاہد محمد ساجد کا کہنا ہے کہ جہاز کے بائیں انجن میں دھماکہ ہوا جس کے بعد جہاز زمین پر گرا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے حادثہ پر پہنچے تو بیشتر مسافروں کی آدھی ادھوری لاشیں سیٹوں سے بندھی ہوئی تھیں جبکہ کچھ لاشیں جائے حادثہ کے آس پاس واقع گھروں میں بھی گریں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس حادثے میں تین گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے ایک گھر کی رہائشی مسرت بی بی کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کے وقت چھت پر تھیں اور طیارے میں گرنے سے قبل ہی آگ لگی ہوئی تھی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے دوران تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والی ریڑھیوں پر ہلاک شدگان کے اعضاء اور سامان لے جایا گیا ہے۔

دوسری جانب حادثے کے بعد اسلام آباد کے ہسپتال پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

پمز میں موجود نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ پہلے پولیس موبائل اور پھر ریسکیو 1122 کی تین ایمبیولنسیں ہسپتال پہنچی ہیں جن سےگٹھڑیوں میں بندھے انسانی اعضاء اتارے گئے ہیں۔

ہسپتال میں موجود ایک شخص خالد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ٹی وی پر خبر آئی اور ہم لوگ ساری فیملی سڑک پر نکل آئے ہیں۔ کوئی کورال چوک پر کھڑا ہے تو کوئی ہوائی اڈے پر۔ کوئی کسی ہسپتال میں ہے کوئی ہائی وے پہ کھڑا ہے۔ اب تک ہمارے آپس میں بھی رابطے ختم ہوگئے ہیں۔ہمیں کسی قسم کی کوئی انفرمیشن نہیں مل رہی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پمز میں ہی موجود مولانا عبدالمجید ہزاروی کا کہنا تھا کہ ’میرا چوبیس سالہ بھتیجا عثمان رشید واپس آ رہا تھا۔ ہمارے عزیز دوسرے ہسپتالوں میں بھی ہیں۔ کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں ہے۔ ہم پہلے جائے وقوعہ کی طرف گئے لیکن وہاں بہت رش تھا۔ وہاں سے ہمیں ایئر پورٹ بھیجا گیا۔ وہاں بھی کوئی بتانے والا نہیں تھا۔ اب یہاں آئے ہیں کوئی بتانے والا نہیں ہے۔ ہمارے عزیز پولی کلینک، بینظیر ہسپتال، پمز، ملٹری ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں گئے ہیں‘۔

خیال رہے کہ بھوجا ایئر لائن نے اپنے آپریشن دوبارہ اسی سال شروع کیے تھے اور کراچی سے اسلام آباد اس ایئر لائن کی پہلی پرواز تھی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی کمپنی بھوجا ایئر کے ڈائریکٹر جاوید اسحاق جب ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس کرنے پہنچے تو مسافروں کے رشتے دار مشتعل ہوگئے، جس کے باعث وہ میڈیا سے بات نہیں کر سکے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ بھوجا ائر کی ایک خصوصی پرواز چلائی جا رہی ہے، جو ہر خاندان کے ایک فرد کو اسلام آباد لے کر جائے گی۔

اسی بارے میں