بی بی سی اردو کے رپورٹرز نے کیا دیکھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں مسافر طیارے کی تباہی کے بعد جائے حادثہ اور ہسپتالوں میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگاروں کی رپورٹس۔

صبح ساڑھے بارہ بجے، حسین آباد

سول ایوی ایشن کے تکنیکی ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اپنے ساتھیوں کو بتا رہے ہیں کہ زمین پر جہاز نہیں بلکہ اس کا ملبہ گرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پورا جہاز اس گاؤں پر گرا ہوتا تو نیچے بہت تباہی ہوتی۔ جہاز کے ایندھن سے آگ لگتی اور اس کے انجن کے چلتے ہوئے پرزے گھروں کے پرخچے اڑا دیتے۔

رات ساڑھے گیارہ بجے، پمز ہسپتال اسلام آباد

نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ ہسپتال میں لوگ تابوت لانا شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیکو لیگل آفیسر نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم شروع کردیا گیا ہے۔

رات دس بج کر چالیس منٹ، حسین آباد گاؤں

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے اہلکار کے مطابق صرف دو لاشیں سلامت حالت میں ملی ہیں اور باقیوں کے اعضاء اکٹھے کیے ہیں۔

رات ساڑھے دس بجے، پمز ہسپتال اسلام آباد

نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ پہلے پولیس موبائل اور پھر ریسکیو 1122 کی تین ایمبیولنسیں ہسپتال پہنچی ہیں جن سےگٹھڑیوں میں بندھے انسانی اعضاء اتارے گئے ہیں۔

رات دس بج کر بائیس منٹ، کراچی ایئرپورٹ

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بھوجا ایئر کے ڈائریکٹر جاوید اسحاق ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس کرنے پہنچے تو مسافروں کے رشتے دار مشتعل ہوگئے، جس کے باعث وہ میڈیا سے بات نہیں کرسکے۔ انہوں نے بتایا کہ بھوجا ائر کی ایک خصوصی پرواز چلائی جا رہی ہے، جو ہر خاندان کے ایک فرد کو اسلام آباد لے کر جائے گی۔

رات دس بج کر پانچ منٹ، حسین آباد گاؤں

تابندہ کوکب کے مطابق حادثے کے ایک اور عینی شاہد محمد ساجد کا کہنا ہے کہ جہاز کے بائیں انجن میں دھماکہ ہوا جس کے بعد جہاز زمین پر گرا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے حادثہ پر پہنچے تو بیشتر مسافروں کی آدھی ادھوری لاشیں سیٹوں سے بندھی ہوئی تھیں جبکہ کچھ لاشیں جائے حادثہ کے آس پاس واقع گھروں میں بھی گریں۔

رات دس بجے، حسین آباد گاؤں

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس حادثے میں تین گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے ایک گھر کی رہائشی مسرت بی بی کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کے وقت چھت پر تھیں اور طیارے میں گرنے سے قبل ہی آگ لگی ہوئی تھی۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے دوران تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والی ریڑھیوں پر ہلاک شدگان کے اعضاء اور سامان لے جایا جا رہا ہے۔

شام نو بج کر پینتالیس منٹ، حسین آباد گاؤں

تابندہ کوکب نے بتایا کہ علاقے میں عارضی طور پر بجلی بحال کر دی گئی ہے جس کے بعد امدادی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

شام نو بج کر چالیس منٹ، حسین آباد گاؤں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تابندہ کوکب کے مطابق جائے حادثہ پر عوام کی بڑی تعداد جمع ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں خلل پڑ رہا ہے۔ لوگوں کے رش کی وجہ سے ایمبولینسیں نہ تو جائے حادثہ پر آ پا رہی ہیں اور نہ ہی وہاں سے باہر نکل سکی ہیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کے ٹکڑے ایک ڈھیر کی شکل میں سڑک کنارے جمع کر رہے ہیں۔ تاہم اندھیرا ہونے کی وجہ سے یہ کام مشکلات کا شکار ہے۔ فوج نے علاقے سے عوام کو ہٹانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اور اب میڈیا کو بھی جائے حادثے پر نہیں جانے دیا جا رہا۔

شام نو بج کر بیس منٹ، جائے حادثہ

جائے حادثہ پر موجود نامہ نگار حفیظ چاچڑ نے بتایا کہ جائے حادثہ کے ایک طرف مکانات ہیں اور دوسری طرف وسیع خالی پلاٹ ہے جہاں جھاڑیوں میں ملبہ اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے ہیں۔

جھاڑیوں میں تباہ ہونے والے جہاز کی تین نشستیں پڑی تھیں جن کے آس پاس انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔امدادی کارکن علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور کپڑے کی چادروں میں انسانی اعضاء جمع کررہے ہیں۔

اندھیرے، بارش کی وجہ سے پیدا ہونے والی کیچڑ اور لوگوں کے رش کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ لوگ موبائل کی ٹارچ استعمال کرکے علاقے میں انسانی اعضاء تلاش کررہے ہیں۔

شام ساڑھے نو بجے، حسین آباد گاؤں

نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ جائے حادثہ کے آس پاس کے کھیتوں، مکانات میں، سڑکوں پر انسانی اعضاء بکھرے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں اعضاء اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شام نو بج کر اٹھارہ منٹ، پمز ہسپتال اسلام آباد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ پمز ہسپتال جمع ہو گئے ہیں اور ہر آنے والی ایمبولینس کی جانب دوڑتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر سے اعلان ہوتا ہے کہ اس ایمبولینس میں عام مریض ہے۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر محمود جمال کا کہنا ہے کہ ایمبولینسیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کی تھیں لیکن وہ ابھی تک پہنچ نہیں سکیں۔

شام نو بج کر پندرہ منٹ، حسین آباد گاؤں

تابندہ کوکب نے بتایا کہ یہ جہاز بجلی کی تاروں سے ٹکرایا جس کے بعد یہ علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ جہاز تین بار زمین سے ٹکرایا اور پھر بلند ہوا اور اس کے بعد مکانوں سے ٹکرایا۔

شام نو بج کر دو منٹ، حسین آباد گاؤں

نامہ نگار تابندہ کوکب اس گاؤں پہنچیں جہاں یہ جہاز گرا ہے۔ اس علاقے میں تاریکی چھائی ہوئی ہے اور امدادی کاموں میں نہایت دشواری پیش آ رہی ہے۔ یہاں جہاز میں سوار افراد کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس تاریکی میں اپنے پیاروں کی تلاش کر رہے ہیں۔ جہاز گرنے کے باعث چند مکانوں کو نقصان ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

شام آٹھ بج کر پینتالیس منٹ، لوئی بھیر

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ لوئی بھیر کے قریب کورال ہی سے ٹریفک کو روک دیا گیا ہے جس کے باعث ٹریفک بری طرح بلاک ہوگئی ہے۔ لوگ پیدل جائے حادثہ کی جانب جا رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی پہنچنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ ابھی تک کوئی لاش نہیں اٹھائی گئی۔

شام ساڑھے آٹھ بجے، حسین آباد

جہاز میں سوار مسافروں کے اہلِ خانہ جائے حادثہ پر پہنچے ہیں۔ جائے حادثہ میں بجلی نہ ہونے کے باعث اہلِ خانہ کا مطالبہ ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی کام کیا جائے۔