حادثے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسلام آباد میں نجی آئر لائن بھوجا کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹارئرڈ جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان وزارتِ داخلہ نے ہفتے کی رات کو کیا۔

جسٹس ریٹارئرڈ زاہد حسین نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورے حکومت کے دوران دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا جس پر بعد میں انھیں توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ جسٹس ریٹائرڈ زاہد حسین نے توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ عدالتی کمیشن کتنے عرصے میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا پابند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس سے قبل حادثے کی ایف آئی ار درج ہونے کے بعد حادثے کی باقاعدہ تحتقیقات شروع کر دی گئیں تھیں۔ اس سلسلےمیں گروپ کیپٹن مجاہد السلام کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے جائے حادثہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کرنا شروع کر دی تھی۔

تحقیقات کے لیے ایک آزاد بورڈ ہونا چاہیے، پائلٹوں کی تنظیم پالپا کے صدر سہیل بلوچ کی سیربین میں گفتگو

اسلام آباد پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر نے کے بعد اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سیل کر دیا تھا۔

علاقے کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر طاہر ملک کے مطابق اس مقدمے میں مذکورہ ائرلائن کے مالک فاروق بھوجا کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں قتل اور مجرمانہ سازش اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فاروق بھوجا اِن دنوں ملک سے باہر ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ندیم یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک سو ستائیس افراد میں سے ایک سو پندرہ لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ بارہ لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک سو تیرہ لاشیں ورثاء کے حوالے کرد ی گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طیارے میں ایک سو بائیس مسافر اور عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم یوسف زئی نے کہا کہ تحقیقات کے مختلف مراحل ہوتے ہیں اس لیے بھوجا ائرلائن کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات میں تین ماہ سے ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔

ندیم یوسف زئی نے کہا کہ عالمی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ محملہ موسمیات کی طر ف سے خراب موسم کی وارننگ دی گئی تھی لیکن موسم اتنا خراب نہیں تھا کہ جہاز لینڈ نہ کر سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعے کے تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک اور نجی کمپنی کا طیارے نے لینڈنگ کی تھی۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے گروپ کیپٹن مجاہد اسلام کا کہنا ہے اس واقعہ کی تحقیقات دن رات جاری ہیں اور اس میں جو بھی پیش رفت ہوگی اُس سے متعلق میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارنی کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ پائلٹ نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ جہاز کو اتارے یا کہیں اور لے جائے۔ ندیم یوسف زئی کا کہنا تھا کہ فلائٹ آپریشن مکمل ضابطے میں تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ طیارے میں بظاہر کوئی فنی خرابی نہیں تھی اور ڈھائی ہزار فٹ تک طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان رابطہ تھا۔

اِس سے پہلے فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی باقیات اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کی گئیں تھیں جہاں شناخت کے بعد میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس عدالتی کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ یا کسی ہائی کورٹ کے جج کریں گے۔

فضائی حادثے کی تصاویر

’ہر طرف انسانی اعضا تھے، قیامت کا منظر تھا‘

بی بی سی اردو کے رپورٹرز نے کیا دیکھا؟

وزیراعظم گیلانی نے سنیچر کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حادثے سے متعلق تمام سوالات کا اس وقت تک جواب نہیں مل سکے گا جب تک اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کو عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے ہدایات دے دی گئی ہے۔

وزیر اعظم سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس سے پہلے ائربلیو کے حادثے کی تحقیقات سے متعلق لوگوں کو تحفظات ہیں کہ تحقیقات میں تمام پہلووں کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس پر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھتے ہوئے جوڈیشل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’پوسٹ مارٹم کے علاوہ ہلاک شدگان کی شناخت میں قومی رجسٹریشن کے ادارے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا سے مدد لی جا رہی ہے، اس کے علاوہ ورثا کو بھی شناخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ اپنے پیاروں کو کپڑوں، جوتوں اور انگوٹھی کی مدد سے شناخت کر رہے ہیں۔‘

تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے پمز کے دورے کے دوران حادثے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کے اعلان سے پہلے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حادثہ کی تحقیقات کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کے سربراہ کیپٹن مجاہد الاسلام کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے والی ٹیم نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے سنیچر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن کی ٹیم جائے حادثہ پر موجود ہے اور وہاں جہاز کے بلیک باکس سمیت دیگر آلات کا معائنہ کیا جا رہا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ ان کو غیر متعلقہ افراد کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ابتدائی رپورٹ سامنے آ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بیرون ملک ہنگامی طور پر بھیجا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختصر عرصے میں دو فضائی حادثات ہو چکے ہیں اور ان جامع تحقیقات ہونی چاہیے کہ نجی ائر لائن کو لائسنس کس طرح ملتا ہے، ان کے جہازوں کا معیار کیا ہوتا ہے اور اس میں کوئی کوتاہی کا مرتکب ہوا، ان سے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسلام آباد کے نواحی علاقے حسین آباد میں جائے حادثہ پر سنیچر کی صبح دوبارہ امدادی کارروائیاں شروع کی گئی۔

جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب بارش کے بعد پیدا ہونے والے کیچڑ اور اندھیرے کے سبب امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی تھیں جس کے بعد رات گئے امدادی کارروائیوں کو روک دیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کو اُس وقت نہیں ہٹایا جائے گا جب تک شہادتیں اکھٹی کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔

جائے حادثہ پر فوج کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے اور کسی کو بھی وہاں پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق سنیچر کے روز بھی جائے حادثہ سے دو نامکمل لاشیں اور انسانی اعضا ملے ہیں جنہیں پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس متعقلہ حکام کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ ابھی تک اس طیارے کا وائس ریکارڈر ابھی تک نہیں ملا۔

دریں اثناء کراچی سے قومی ائر لائن کی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ہلاک شدگان کے چورانوے لواحقین کو اسلام آباد لایا گیا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد کے نواح میں مسافر طیارے کے حادثے میں ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ حادثہ نجی ایئر لائن کمپنی بھوجا ایئر کے جہاز کو جمعہ کی شام پیش آیا۔

بی ایچ او - 213 بوئنگ 737 طیارہ کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا جس میں ایک سو اکیس مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

اسی بارے میں