بھوجا ائر فضائی حادثہ، سوشل میڈیا پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں اس وقت میڈیا کی طرف سے مسافر طیاروں، انتظامیہ اور ذمہ داران پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ایسے میں متبادل میڈیا یا سوشل میڈیا نے اس حادثے کی رپورٹنگ پر الیکٹرانک میڈیا کو اخلاقی قدر کی یاد دہانی کرائی ہے۔

ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل گروہوں پر الیکٹرونک میڈیا کی رپورٹنگ اور فوٹج پر گرما گرم بحث مباحثہ جاری ہے جس کے شرکاء میں بعض صحافی بھی شامل ہیں۔

آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید کہتی ہیں کہ میڈیا کو ایک مخصوص ایریا تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے بقول حکام کو اِنہیں صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے اور یہ اصول ہے کہ جائے وقوع کو محاصرے میں رکھا جائے۔

ان کے مطابق جہاز کے حادثوں اور آفات کی کوریج کے کچھ طریقے کار ہوتے ہیں اور حساس تربیت کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ نیوز روم میں بیٹھے ہوئے پروڈیوسر کی بھی اضافی تربیت کی ضرورت ہے۔ رپورٹروں پر لاشوں کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ لاشوں اور طیارے کی اینیمٹڈ تصاویر میں کوئی خبر نہیں ہوتی۔ ہماری کچھ اخلاقیات بھی ہونی چاہییں۔

سیاسی و سماجی کارکن عافیہ اسلم کا کہنا ہے کہ میڈیا کو ذمہ دارانہ اور اخلاقی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کوئی ایمرجنسی یا آفت میڈیا کو یہ لائسنس نہیں دیتی کہ وہ ضابطہ اخلاق کو بائی پاس کرے۔ بقول ان کے یہ الزام تراشی نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے کی بات ہے۔

صحافی اور اینکر پرسن مظہر عباس عافیہ سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافت کے بنیادی اصولوں اور معیار کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ کیسے کی جائے اور میڈیا مینیجرز کو اس اہم مسئلے پر توجہ دینا چاہیے۔

صحافی ادریس بختیار کہتے ہیں ہے کہ وہ مظہر عباس کی تشویش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر وہ میڈیا مینیجر کے طور پر کس کا حوالہ دے رہے ہیں؟ مظہر کیا خود ان میں سے ایک نہیں ہیں؟ بقول ادریس بختیار کہ یہ میڈیا مینیجر کوئی ضابطہ اخلاق بنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کے صحافی آغا طاہر کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاملے کی کوریج میں الیکٹرونک میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اکثر چینلز دہشت پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو بلڈ پریشر کا مریض بنا دیتے ہیں۔ وہ درخواست کرتے ہیں کہ اپنا فرائض ذمہ داری سے ادا کریں لوگوں کو مریض نہ بنائیں۔

اسلام آباد کے صحافی راجہ کامران کہتے ہیں کہ میڈیا پر الزام بازی ایک فیشن بن گیا ہے مگر میڈیا اپنی ڈیوٹی کر رہا ہے۔ بقول ان کے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال تھی۔ انہوں نے ساری رات کام کیا، متاثرین کے لواحقین سے ملے اور انسانی پہلو پر رپورٹنگ کی۔

صحافی بینا سرور کہتی ہیں کہ بڑی خبر کی تلاش میں رپورٹر اور ایڈیٹر دو ذرائع سے تصدیق کا بنیادی اصول بھول جاتے ہیں۔

اسلام آباد کے صحافی کاشف بیگ کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے میں میڈیا نے سیاست دانوں سے بھی بدتر کردار ادا کیا۔ وہ خود کو اس کا حصہ سمجھتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں