بھوجا ایئر کے دفتر پر چھاپہ، عدالتی کمیشن قائم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایف آئی اے نے بھوجا ایئر کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ریکارڈ چیک کیا

پاکستان کے شہر کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھوجا ایئر کے صدر دفتر میں چھاپہ مارا ہے جبکہ اسلام آباد میں حادثے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کردیا ہے۔

ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم نے سنیچر کی شام بھوجا ایئر کے دفتر میں حادثے شکار ہونے والے طیارے کے ریکارڈ کئی گھنٹے تک چیک کیا۔

ٹیم میں شامل ایک افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ وہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے کاغذات، لائسنس اور مینٹیننس سرٹیفیکیٹ چیک کر رہے تھے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ طیارہ کس قدر فضائی طور پر قابل اعتبار تھا، اگر نہیں تھا تو اس کو کیسے کلیئرنس دی گئی۔

اس افسر نے بتایا کہ کمپنی میں سب سے زیادہ شیئر طارق ارشد کے ہیں جو اس وقت چین میں موجود ہیں۔

حادثے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کمپنی کے مالکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل پاکستان کی شہری ہوا بازی کے ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ندیم یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک سو ستائیس افراد میں سے ایک سو پندرہ لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ بارہ لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک سو تیرہ لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طیارے میں ایک سو بائیس مسافر اور عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔

عدالتی کمیشن

اسلام آباد میں نجی آئر لائن بھوجا کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹارئرڈ جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان وزارتِ داخلہ نے ہفتے کی رات کو کیا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ عدالتی کمیشن کتنے عرصے میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا پابند ہے۔

جسٹس ریٹارئرڈ زاہد حسین نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورے حکومت کے دوران دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا جس پر بعد میں انھیں توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ جسٹس ریٹائرڈ زاہد حسین نے توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

اس سے قبل حادثے کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد حادثے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئیں تھیں۔ اس سلسلےمیں گروپ کیپٹن مجاہد السلام کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے جائے حادثہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کرنا شروع کر دی تھی۔

اسلام آباد پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر نے کے بعد اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سیل کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک سو ستائیس افراد میں سے ایک سو پندرہ لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے: حکام

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر ندیم یوسف زئی نے کہا کہ تحقیقات کے مختلف مراحل ہوتے ہیں اس لیے بھوجا ائرلائن کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات میں تین ماہ سے ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔

ندیم یوسف زئی نے کہا کہ عالمی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ محکمۂ موسمیات کی طر ف سے خراب موسم کی وارننگ دی گئی تھی لیکن موسم اتنا خراب نہیں تھا کہ جہاز اُتر نہ کر سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعے کے تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک اور نجی کمپنی کا طیارے نے لینڈنگ کی تھی۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے گروپ کیپٹن مجاہد اسلام کا کہنا ہے اس واقعہ کی تحقیقات دن رات جاری ہیں اور اس میں جو بھی پیش رفت ہوگی اُس سے متعلق میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس عدالتی کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ یا کسی ہائی کورٹ کے جج کریں گے۔

وزیراعظم گیلانی نے سنیچر کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حادثے سے متعلق تمام سوالات کا اس وقت تک جواب نہیں مل سکے گا جب تک اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا۔

اسی بارے میں