ممتاز گلوکار ماسٹر منظور نے خود کشی کرلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں سندھی زبان کے صف اول کے گلوکار ماسٹر منظور وڈہو نے آج علی الصبح حیدرآباد میں اپنے گھر میں خو کشی کر لی۔

ماسٹر منظور کے گھر سے ان کے ایک رشتہ دار نے فون پر ان کے ایک اور رشتہ دار کو، جو پولیس میں افسر ہیں، مطلع کیا تھا کہ ماسٹر منظور نے خود کشی کر لی ہے۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماسٹر منظور خون میں لت پت اپنے بستر پر پڑے ہوئے تھے اور ان کے برابر میں ان کا ذاتی پستول بھی پڑا تھا۔

حیدرآباد میں صحافی علی حسن کے مطابق اسی پولیس اہلکار نے بتایا کہ پستول سے صرف ایک گولی چلی جبکہ دوسری گولی پستول میں ہی پھنسی ہوئی تھی۔ ان کے بستر کے قریب شراب سے بھرا آدھا گلاس بھی پڑا ہوا تھا اور شراب کی بوتل بھی رکھی ہوئی تھی۔

پولیس نے ان کی خود کشی کے اسباب جاننے کے لیے ان کی اہلیہ سے گفتگو کی تو انہوں نے اپنے گھر آئے ہوئے نوجوان پر شبہ کا اظہار کیا۔

ماسٹر منظور کی اہلیہ دو روز سے بچوں کو چھوڑ کر میکے گئی ہوئی تھیں اور گزشتہ رات ماسٹر منظور انہیں لانے بھی گئے تھے لیکن وہ نہیں آئی تھیں۔ پولیس اس بات کی کھوج لگا رہی ہے کہ کیا ان کی اہلیہ کسی ناچاقی کے سبب بچوں کو چھوڑ کر اپنے میکے گئی تھیں یا کوئی اور وجہ تھی۔

ماسٹر منظور پانچ بچوں کے والد تھے۔ وہ ضلع لاڑکانہ کے رہنے والے تھے اور اپنے زمانے کے مشہور لوک فنکار مکھنو فقیر کے بیٹے تھے۔ مکھنو فقیر سندھی موسیقی کے آلات چپڑی اور یک تارو بجانے میں یکتا تھے۔