’سرائیکی صوبہ، عوام کی محرومیوں کا حل‘

سرائیکی صوبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ضرورت ہے: وزیراعظم گیلانی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

سرائیکی صوبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ضرورت ہے: وزیراعظم گیلانی

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کا صرف ایک حل ہے کہ ان کا الگ سرائیکی صوبہ بن جائے۔

جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام پینسٹھ برس سے محرومیوں کا شکار ہیں۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر کسی نے جنوبی پنجاب میں ترقی کے لیے وعدے کیے لیکن کسی نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ان کے بقول جب تک الگ صوبہ نہیں بنے گا اس وقت تک جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ان کا حق نہیں ملے گا۔

لاہور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ الزام لگایا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے لیے عوام کو اکسا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سرائیکی صوبہ ان کی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ضرورت ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے افسوس ظاہر کیا کہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے پاس تعلیمی ڈگریاں ہیں لیکن ان کو ملازمت نہیں ملتی، اس لیے وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ بجٹ میں ایک لاکھ نوکریاں دی جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ گلہ کیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں کرتی۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی نے آئین بنایا اور اس کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اداروں کا احترام کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے دعویْ کیا کہ وہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو گراسکتے ہیں لیکن ان کی جماعت ایسا نہیں کرے جبکہ اگر مسلم لیگ کے پاس اکثریت ہو تو پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے میں ایک منٹ بھی نہ لگائے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ وفا کرنے والے لوگ ہیں اور قبروں سے بھی وفا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے ان کو پھانسی دے دی جائے لیکن وہ اپنا مشن نہیں چھوڑیں گے۔