قبائلی سردار کو طالبان کا الٹی میٹم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حقانی گروپ اور قبائیلی سردار کریم خان میں مصالحت کی کوششیں جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ نے ایک قبائلی سردار کریم خان کو اپنے خاندان سمیت علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب علاقے کے علماء اور قبائلی مشیران پر مُشتمل ایک جرگہ نے اس معاملے میں مُصالحت کی کوششں بھی شروع کی ہے۔

مقامی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر مقام میرانشاہ سے کوئی تیس کلومیٹر دور شمال مشرق کی جانب تحصیل شوہ میں حقانی گروپ نے ایک جرگہ کےذریعے دھمکی دی ہے کہ ملک کریم خان میامی کابل خیل دو دن کے اندر اندر شمالی وزیرستان سے اپنے خاندان سمیت چلے جائیں ورنہ تمام طالبان شدت پسند ان کے خلاف اکھٹے ہوکر کارروائی کرینگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے علماء کرام اور کچھ قبائلی شخصیات طالبان سے ملے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیں۔ لیکن طالبان ابھی تک اس بات پر ڈٹے ہیں کہ کریم خان کو اپنے خاندان سمیت علاقہ چھوڑنا ہوگا۔

دوسری طرف یہ بھی اطلاع ہے کہ کریم خان کے خاندان کے افراد نے اپنے گھر کے قریب مورچے بنانا شروع کیے ہیں اور ابھی تک وہ علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے۔ انہیں حکومت کی طرف سے بھی ابھی تک کسی قسم کے تعاون کی پیشکش نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ چار دن پہلے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوہ میں حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں نے میامی کابل خیل قبائل کے سردار ملک کریم خان کے گھر کو چاروں اطراف سےگھیرے میں لے کر اس پر راکٹوں اور خود کار ہھتیاروں سے حملہ کیا تھا۔ چونکہ کریم کے خاندان والوں کو پہلے سے علم تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے مُسلح جنگجوں ان کے گھر پر حملہ کرنے والے ہیں اس لیے انہوں نے پہلے ہی سے تیاری کی تھی اورگھر کے آس پاس مورچے بنا رکھے تھے۔

فریقین کے درمیان دو دن تک شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اس جھڑپ میں سات شدت پسند جنگجووں ہلاک اور کریم خان کے تین بھتیجے حسننین، کمال خان اور عرفان ہلاک ہوئے تھے۔

طالبان شدت پسندوں نے کریم خان کے دو بھتیجوں بشیرخان اور جانداد خان کو ایک مورچے سےگرفتار کیا تھا جن کی لاشیں گزشتہ روز یعنی اتوار کو شوہ کے قریب ایک پہاڑی نالے ملی تھیں۔

حقانی نیٹ ورک اور قبائل رہنماء کریم خان کے درمیان بد اعتمادی کا سلسلہ چھ مہینے پہلے اس وقت شروع ہوا تھا جب کریم خان کے جواں سالہ بیٹے جان زیب کو نامعلوم مُسلح نقاب پوشوں نے اغواء کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔جان زیب پر الزام تھا کہ ان کا افغانستان میں افغان حکام سے تعلقات تھے۔

یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ میامی کابل خیل قبائل پاکستان اور افغانستان دونوں مُلکوں کے شہری ہیں۔ شمالی وزیرستان کی تحصیل شوہ میں جتنے بھی میامی کابل خیل قبائل آباد ہیں ان کا افغانستان کے صوبہ پکتیکا کی تحیصل برمل کے علاقے مرغہ میں بھی ایک ایک گھر موجود ہیں۔

ملک کریم خان کے بیٹے جان زیب خان کے ہلاکت کے بدلے میں ان کے خاندان کے افراد نے ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں دو ہفتے پہلے حقانی نیٹ ورک کے ایک اھم کمانڈر قادر خان کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ قادر خان حقانی نیٹ ورک کو اہم کمانڈر سھمجا جاتا تھا جن کا تعلق افغانستان کے علاقے خوست سے تھا۔ خوست جلال الدین حقانی کا آبائی علاقہ بتایا جاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر قادر خان کی ہلاکت کے بعد طالبان نے کریم خان کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جس میں دونوں طرف سے بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کریم خان کےگھر پر حملے کے دوران سینکڑوں مُسلح طالبان آئے تھے۔لیکن ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کے بعد وہ منتشر ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کے بعد شمالی وزیرستان میں موجود طالبان شد پسندوں کے تینوں گروپ حقانی نیٹ ورک، حافظ گل بہادر گروپ اور حکیم اللہ محسود کے جنگجووں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ وہ کریم خان کے خلاف ایک ساتھ لڑیں گے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ آٹھ نو سالوں کے دوران ایک ہزار کے قریب قبائلی مشیران ملکانان اور حکومت کے حامی لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی بھی خاندان نے نہ کسی پر الزام لگایا ہے اور نہ ہی کسی نے بدلا لیاگیا ہے۔ البتہ یہ تمام خاندان کسی خاص وقت کے انتظار میں ہے۔جب ہی موقع ملے گا وہ اپنے پیاروں کا بدلا ضرور لیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک دفعہ ان متاثرہ خاندانوں والوں نے اپنے پیاروں کا بدلا لینا شروع کیا تو ہوسکتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اُٹھے گی برسوں تک جاری رہے گی۔