بلوچستان: ’وکلاء عدم تحفظ کا شکار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہندو وکیل مکیش کوہلی ایڈوکیٹ کے اغواء ہونے کے بعد وکلاء نے کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مکیش کوہلی ایڈوکیٹ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بارایسوسی ایشن اور بلوچستان بار کونسل کی اپیل پر سوموار کے روز وکلاء نے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

وکلاء نے کوئٹہ کچہری سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی منان چوک پر ایک مظاہرے میں تبدیل ہو گئی۔

اس موقعے پر وکلاء نے مکیش کوہلی اور منیرمیروانی ایڈوکیٹ کی عدم بازیابی پر صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔

بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر اور انسانی حقوق بلوچستان چیپٹرکے سابق چیئر پرسن ملک ظہور شاہوانی ایڈوکیٹ نے مکیش کوہلی ایڈوکیٹ کی اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سال میں ہندو برادری کے پچاس سے زیادہ افراد صوبے کے مختلف علاقوں سے اغواء ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی ایک باشندے کو بازیاب کرانےمیں کامیاب نہیں ہوئی بلکہ سب نے تاؤان دیکر بازیابی حاصل کی ہے اور جولوگ تاؤان ادا نہیں کرسکے انہیں اغواء کاروں نے قتل کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے اغواء کارروں کے خلاف کوئی کارروائی آج تک نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اغواء برائے تاؤان کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے۔

ملک ظہور شاہوانی نے اس کی ذمہ داری ان قوم پرست سیاسی جماعتوں پر عائد کی جنہوں نے گزشتہ انتخاب کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ اگرقوم پرست جماعتیں اسمبلی میں ہوتی تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتا کیونکہ ان کے بائیکاٹ کی وجہ سے وہ لوگ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں جنکی عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

بلوچستان بار کونسل کے صدر داؤد کاسی نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران آٹھ وکلاء اغواہوئے ہیں لیکن آج تک وکلاء کو تحفظ فراہم نہیں کیاگیا جس کے باعث وکلاء عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

بقول انکے حکومت کو عوام کے جان ومال کے تحفظ کا کوئی احساس نہیں ہے اور وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کئی ماہ بعد صرف تین گھنٹے کے لیے کوئٹہ کے دورے پرآتے ہیں جبکہ باقی وزراء بھی کوئٹہ سے زیادہ وقت اسلام آباد، کراچی اور دبئی میں گزارتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مکیش ایڈوکیٹ اور منیرمیروانی ایڈوکیٹ کو بازیاب کرایا جائے۔ اس مطالبے کے بعد وکلاء کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں اٹھائیس اپریل کو تمام عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیاگیا۔

یاد رہے کہ مکیش کوہلی ایڈوکیٹ کو نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح اس وقت گھر سے نکلتے ہی اغواء کرلیا جب وہ ہائی کورٹ کی طرف آرہے تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کیاہے لیکن ابھی تک مکیش کوہلی کی بازیابی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں