کشمیر میں وزراء کی حاضری کی نگرانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزارء کی حاضری کی ہفتہ وار تفصیلات وزیراعظم چودھری عبدالمجید کو بھیجی جائیں گی: ترجمان مرتضٰی درانی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں غیر معمولی طور پر وزراء کی دفاتر میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ہفتہ وار حاضری کی تفصیل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم اور پاکستان کے صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کو بھیجا کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ فریال تالپور نے یہ ہدایت حال ہی میں اسلام آباد میں ان کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں جاری کیں ہیں جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی کارکردگی کے بارے میں غور کیا گیا۔

متنازع خطے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کے موضوع پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے علاوہ وزراء، مشیر، اراکین اسمبلی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کے عہدیدار شریک ہوئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ دو ہزار گیارہ میں ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے انچاس کے ایوان میں اٹھائیس نشتیس حاصل کر کے انتخابات جیتے تھے۔

پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ( ق) کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی۔ یہ دونوں جماعتیں اسلام آباد میں بھی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں۔

چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں بننے والی حکومت میں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کے تین وزراء سمیت کابینہ کے کل اراکین کی تعداد چوبیس ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے کل اراکین کی تعداد اکتیس ہے۔

وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے سیاسی امور اور اطلاعات و نشریات کے مشیر مرتضٰی درانی نے، جو اس اجلاس میں موجود تھے، کہا کہ اجلاس میں شریک پارٹی کے عہدیداروں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہی تھا کہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم اور وزراء کو مظفرآباد میں اپنے دفاتر میں بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’فریال تالپور صاحبہ آزاد کشمیر کے سیاسی معاملات کی انچارج ہیں اور انہوں نے وزیراعظم اور وزراء سے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت مظفرآباد میں قیام کریں۔‘

درانی نے کہا کہ فریال تالپور نے یہ بھی کہا کہ اگر وزیر اعظم کو کسی میٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد یا پاکستان کے کسی صوبے یا پھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی ضلع میں جانا پڑتا ہے تو وزراء کم از کم اپنے دفاتر میں موجود رہا کریں۔

وزیراعظم کے مشیر مرتضیٰ درانی نے کہا ’(فریال تالپور) کی طرف سے (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے) وزراء سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ہفتہ وار حاضری کی تفصیلات وزیراعظم کو بھیجا کریں اور اگر کوئی ہنگامی صورت حال ہے یا اپنے حلقے میں جانا ہو اور مظفرآباد چھوڑنا ہو تو ایسی صورت میں وزراء وزیر اعظم سے پیشگی اجازت لینے کے پابند ہوں گے۔‘

اگرچہ مرتضیٰ درانی وزراء نے حاصری کی تفصیلات فریال تالپور کو بھیجے جانے کی تصدیق نہیں کی لیکن اس اجلاس میں موجود ایک اور اہم عہدیدار نے کہا کہ فریال تالپور نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ یہ تفصیلات انہیں بھی بھیجا کریں۔

البتہ مرتضی درانی نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی فریال تالپور براہ راست اس سارے عمل کی نگرانی کریں گی۔ ان کا کہنا ہے’ فریال تالپور صاحبہ ہر تین ماہ بعد کارکنوں اور عہدیداروں کا اجلاس بلایا کریں گی جس میں وزراء یا اراکین اسمبلی نہیں ہوں گے اور کارکن انہیں آگاہ کرسکتے ہیں کہ آیا ان کی ہدایات پر عمل کیا جارہا ہے یا نہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عمومی شکایت رہی ہے کہ حکمران مظفرآباد میں قیام کے بجائے اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزارتے ہیں یا پھر بیرونی دوروں پر ہوتے ہیں اور ان کی مظفرآباد میں عدم موجودگی سے علاقے کے انتظامی امور شدید متاثر ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کابینہ کے کل اراکین کی تعداد چوبیس ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے کل اراکین کی تعداد اکتیس ہے

مظفرآباد کے بجائے اسلام آباد کو اپنا مسکن بنانے اور بیرونی دورے کرنے کی روایت نوے کی دہائی کے شروع میں اس وقت کے حکمران سردار عبدالقیوم نے ڈالی تھی۔ بعد میں آنے والے کم و بیش تمام حکمران ان ہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔

ماضی میں اس عمل پر سخت تنقید ہوتی رہی لیکن حکمرانوں نے کبھی بھی اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔

حکمران اسلام آباد میں قیام یا بیرونی دورے کرنے کے مختلف جواز پیش کرتے رہے۔

ماضی میں کچھ یہ کہتے رہے کہ تنازعِ کشمیر کے بارے میں اپنا موقف بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لیے اسلام آباد میں قیام یا بیرونی دورے ناگزیر تھے۔

دیگر کا یہ موقف رہا کہ چونکہ حکومت بنانے یا گرانے کا فیصلہ اسلام آباد میں ہی ہوتا ہے لہذٰا اسلام آباد میں رہنا ضروری ہے۔

بعض یہ وجہ بتاتے رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا مالی انحصار بہت حد تک اسلام آباد پر ہے جس کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنا ضروری ہے اور یہ اسلام آباد میں قیام کے بغیر ممکن نہیں۔

کچھ کا یہ اصرار رہا کہ جغرافیائی لحاظ سے اسلام آباد مرکزی جگہ ہے اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تمام حصوں کے لوگوں کے لیے رسائی آسان ہے اسی لیے عوامی نمائندے اسلام آباد میں ٹہرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بالکل برعکس لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکمران زیاد تر وقت ریاست میں ہی گزراتے ہیں اور شاذو نادر ہی بیرونی دوروں پر جاتے ہیں۔

اسی بارے میں