توہینِ عدالت کیس: آج فیصلہ سنایا جا رہا ہے

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سات رکنی بینچ کے سامنے وزیِراعظم تیسری مرتبہ پیش ہونگے۔

سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ آج وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سنا رہا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت پہنچ چکے ہیں، ان کے ساتھ وفاقی وزراء سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

منگل کو سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جمعرات چھبیس اپریل کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا اور وزیراعظم سے کہا تھا کہ وہ اس موقع پر عدالت میں حاضر ہوں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کے سامنے وزیِراعظم تیسری مرتبہ پیش ہونگے۔

قواعد کی پاسداری توہین عدالت نہیں: اٹارنی جنرل

استغاثہ کی مرضی کے بغیر بھی سزا ممکن: سابق جج

اصل مسئلہ مال مقدمہ کا ڈالروں کا ہے: برطانوی وکیل

ادھر پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیراعظم پاکستان کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا تھا کہ اس مقدمے میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بطور وکیلِ استغاثہ اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت توہینِ عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں اور دو ہزار تین کا توہینِ عدالت آرڈیننس اب وجود نہیں رکھتا اس لیے وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کسی قانون کے تحت نہیں کی جا رہی۔

اس پر بینچ کے رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمان نے توہینِ عدالت کے قانون کو آئین کے آرٹیکل دو سو ستر ڈبل اے کے تحت تحفظ دیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس مقدمے میں وزیراعظم کے خلاف داخل کی گئی چارج شیٹ بےبنیاد ہے اور عدالت براہِ راست وزیراعظم کو خط لکھنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

عرفان قادر کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے توہینِ عدالت کا نوٹس دینا صحیح طریقہ نہیں۔

اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انہیں کسی کو سزا دینے کا شوق نہیں لیکن عدالت کو اپنے احکامات پر عمل کروانے کے لیے متبادل طریقہ تو بتایا جائے۔

عرفان قادر نے سماعت کے دوران اقوامِ متحدہ کی گائیڈ لائنز بھی پیش کیں جن میں پراسکیوٹر کا کردار واضح کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے اور کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے عرفان قادر سے کہا تھا کہ ان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ وزیراعظم کو سزا دلوائیں۔

سماعت کے دوران سیکرٹری قانون یاسمین عباسی کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سوئس حکام کو مقدمات ختم کرنے کے لیے جو خط لکھا تھا وہ قانون کے مطابق تھا۔

اسی بارے میں