لاہور: ریلوے سٹیشن پر دھماکہ، دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ہونے والے ایک دھماکے میں دو افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوگئے۔

لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس چیف (سی سی پی او) اسلم ترین نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک ریلوے پولیس کانسٹیبل اور ایک قلی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

زخمیوں کو لاہور کے میوہپستال داخل کرایا گیا ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق دھماکہ تقریباً پونے سات بجے نجی انتظام کے تحت چلنے والی بزنس ٹرین کے ویٹنگ روم کے باہر پلیٹ فارم نمبر دو پرہوا۔

دھماکے سے پانچ منٹ پہلے ہی عوامی ایکسپریس لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی تھی اور پلیٹ فارم پر مسافروں کا رش تھا۔

دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بزنس ٹرین کے ویٹنگ روم کی کھڑکیاں، دروازے اور شیشے ٹوٹ گئے۔

سی سی پی او اسلم ترین نے کہا کہ اس بات کی تفتیش جاری ہے کہ یہ بم ریلوے سٹیشن تک کیسے پہنچا۔

انہوں نے کہا ہوسکتا ہے کہ یہ بم ٹرین سے اتاراگیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حملہ آور لاہور کے ریلوے سٹیشن کے حفاظتی حصار کو توڑ کر اندر داخل ہوا۔

دوسری جانب سول ڈیفنس بم ڈسپوزل کے ایک اہلکار اسلم سجاد نے کہا کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ یہ بم ٹائم ڈیوائس تھا یا نہیں۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ بم دھماکے کے لیے دیسی ساخت کا بارود استعمال کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پورے شہر میں پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے اور خاص طور پر بس سٹینڈز اور لاہور میں داخلے کے مقامات پر ناکے لگا دیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں