وزیراعظم گیلانی کی نااہلی: ٹائم لائن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق سپیکر کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ان کی نا اہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے سے ہوا تھا۔ بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔

توہین عدالت کے مقدمے اور پھر سپیکر کی رولنگ کے بارے میں درخواستوں پر کارروائی کی ٹائم لائن کچھ اس طرح ہے۔

جون 2012

19 جون: سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یوسف رضا گیلانی آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ایک جی کے مطابق چھبیس اپریل کے عدالتی فیصلے کے اعلان کے وقت سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ عدالت کے مطابق وہ اسی تاریخ سے ملک کے وزیرِاعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ چھبیس اپریل سے ہی یوسف رضا گیلانی کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

18 جون: وزیراعظم کی حمایت میں قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ عدالت اس معاملے میں اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے۔

14 جون: اسی دن وزیراعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے موکل کے بارے میں قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو دی گئی سزا کا مطلب نااہلی نہیں اور اگر کسی رکن پارلیمان کو دو سال سے کم سزا دی جائے تو وہ نا اہل نہیں ہوتا۔

14 جون: پاکستان کی قومی اسمبلی سے حکومت نے ایک قرار داد منظور کرائی ہے جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم کو نااہل قرار نہ دینے کے بارے میں سپیکر کی رولنگ کو آئین کے مطابق کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

6 جون: وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ملنے کے باوجود عہدے پر فائز رہنے اور سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں پر وفاق، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے گئے۔

مئی 2012

28 مئی: پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔

24 مئی: پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے توہین عدالت کیس میں سزا یافتہ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو مسترد کرنے کی رولنگ جاری کی۔ چار صفحات پر مشتمل رولنگ میں انہوں نے آئین اور توہینِ عدالت کی شقوں، سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گئے احکامات اور سپیکر کی سابقہ رولنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی پر جو فرد جرم عائد کی ہے اس کے تحت انہیں نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

اپریل 2012

26 اپریل: پاکستان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ضروری کارروائی کی خاطر قومی اسمبلی کے سپیکر کو خط تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر کی توجہ مبذول کرائیں۔

24 اپریل: سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جمعرات چھبیس اپریل کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ وہ اس موقع پر عدالت میں حاضر ہوں۔

16 اپریل: اعتزاز احسن نے کہا کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کروانے کے لیے عدالتِ عظمیٰ مناسب فورم نہیں ہے اور اُن کے موکل کے خلاف کوئی بھی مدعی نہیں ہے۔اٹھارہ اپریل: سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی اور جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔

12 اپریل: سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کا عہدہ ختم ہونے تک خط لکھنے کا معاملہ اگر مؤخر کر دیا گیا تو پھر یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

مارچ 2012

22 مارچ: اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے مؤکل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا اور اس کی حیثیت ایک شکایت کنندہ کی ہے اس لیے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے والا بینچ اسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

21 مارچ:وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے سماعت کے دوران بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مقدمہ مس ٹرائل کی جانب جا رہا ہے۔

19 مارچ: وزیراعظم کی جانب سے جمع کروائے جانے والے تحریری بیان میں کہا گیا کہ عدالتی احکام کی روشنی میں وہ صدر زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جائےگا۔ تحریری جواب میں عدالت کے بنچ کے بارے میں بھی تحفظات ظاہر کیے گئے اور کہا گیا کہ وہاں ’منصفانہ کارروائی ممکن نہیں لگتی اور یہ کہ لگتا ہے کہ معزز عدالت نے مقدمے کے نتائج سے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے‘۔

08 مارچ: سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان کو انیس مارچ تک تحریری بیان جمع کروانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کہا کہ اگر وزیراعظم تحریری بیان جمع کروانا چاہتے ہیں تو انیس مارچ کو جمع کروا دیں تاکہ اکیس مارچ کو اس پر دلائل کا آغاز کیا جائے تاہم اگر وہ خود عدالت میں پیش ہو کر بیان دینا چاہتے ہیں تو اکیس مارچ کو عدالت میں آ سکتے ہیں

فروری 2012

28 فروری: سپریم کورٹ نے کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو سات مارچ کو دفاع کی جانب سے گواہ کے طور پر طلب کر لیا۔ انہیں وہ سمریاں بھی پیش کرنے کو کہا ہے جو این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے انہیں بھجوائی گئی تھیں۔

13 فروری: سپریم کورٹ نے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کردی اور فرد جرم سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالمک نے خود پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے مزید کارروائی اٹھائیس فروری تک ملتوی کر دی۔

12 فروری: وزیراعظم نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ‘مجھے ایسا نہیں لگتا کہ عدالت سزا دے گی‘۔

10 فروری: چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد اعتزاز احسن کی اپیل خارج کرنے کا حکم سنا دیا۔

09 فروری: سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں انٹرا کورٹ کی اپیل کی سماعت کی اور اعتزاز احسن نے سہ پہر تک دلائل دیے۔ عدالت نے کہا کہ اگر وزیراعظم سوئس حکام کو مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھ دیں تو نوٹس واپس اور توہین عدالت کا مقدمہ خارج کرتے ہیں۔ اعتراز احسن نے کہا کہ وہ یہاں لین دین کے لیے نہیں بلکہ میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ عدالت نے سماعت اگلے روز تک ملتوی کر دی۔

08 فروری : وزیراعظم نے فرد جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ رد کرکے نوٹس خارج کریں۔ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ قائم کیا اور نو فروری سے اپیل کی سماعت کا اعلان کیا۔

02 فروری: سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے اعتزاز احسن کے دلائل مسترد کرکے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم سنایا اور یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو طلب کر لیا۔ اعتزاز احسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ جرنیلوں کی توہین عدالت کا بھی نوٹس لے۔

جنوری 2012

19 جنوری: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ سات سو چھیاسی نمبر پلیٹ والی سفید لینڈ کروزر خود ڈرائیو کرکے عدالت پہنچے۔ عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر خود پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا اور سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی۔

17 جنوری: وزیراعظم نے پارلیمان سے خطاب میں اعلان کیا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور انیس جنوری کو خود پیش ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تمام ادارے آئین کے ماتحت ہیں اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ بعد میں وزیرِ اعظم نے اعتزاز احسن سے ملاقات کی اور انہیں اپنا وکیل مقرر کیا۔

16 جنوری : سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ’این آر او‘ عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے انہیں انیس جنوری کو خود پیش ہونے کا حکم دیا۔