لاہور: ہلاکتوں کی تعداد تین، ٹرین سے بم برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ریلوے سٹیشن پر منگل کی شام کو ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

ایک غیر معروف بلوچ تنظیم لشکر بلوچستان نے لاہور ریلورے سٹیشن پر منگل کی شام کو ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دریں اثناء صوبہ پنجاب کے شمالی شہر اٹک میں حکام کے مطابق کراچی سے پشاور جانے والی عوام ایکسپریس میں تیرہ کلوگرام وزنی بم برآمد ہوا ہے۔

لشکر بلوچستان نامی تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’بم دھماکہ سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں جاری کارروائیوں کا ردعمل ہے اور ہمارا اگلا ہدف اسلام آباد اور راوپنڈی ہونگے۔‘

’ہوائی جہاز پر تو اعتبار ہی نہیں رہا‘

اٹک کے ایڈیشنل ضلعی رابط افسر عابد وزیر نے بی بی سی کے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ عوام ایکسپریس میں بم کی اطلاع پر اٹک ریلوے سٹیشن پر ٹرین کو روک کر تلاشی لی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ تلاشی پر ایک بریف کیس سے تیرہ کلوگرام دھماکہ وزنی بم برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بم کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کر کے چند افراد کو شک کی بنا پر گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے منگل کی رات کو ریلوے سٹیشن پر دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور پچیس سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق بدھ کو میو ہسپتال میں دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک زیراعلاج بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والا سات سالہ بچہ محمود خان پور سے اپنے والدین کے ہمراہ لاہور آیا تھا اور واپسی کے لیے ریلوے سٹیشن پہنچا تھا کہ دھماکہ کا شکار ہوکر میو ہپستال پہنچا اور کئی گھنٹے موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اب بھی پانچ مریضوں کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔

ریلوے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس کانسٹیبل ادریس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں پولیس اور ریلوے حکام نے بھی شرکت کی۔

ہلاک ہونے والے قلی محمد بوٹا کی لاش ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔

دھماکہ تقریباً پونے سات بجے نجی انتظام کے تحت چلنے والی بزنس ٹرین کے ویٹنگ روم کے باہر پلیٹ فارم نمبر دو پر ہوا تھا۔

دھماکے سے پانچ منٹ پہلے ہی عوامی ایکسپریس لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی تھی اور پلیٹ فارم پر مسافروں کا رش تھا۔

سی سی پی او اسلم ترین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ یہ بم ٹرین سے اتاراگیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حملہ آور لاہور کے ریلوے سٹیشن کے حفاظتی حصار کو توڑ کر اندر داخل ہوا۔

سول ڈیفنس بم ڈسپوزل کے ایک اہلکار اسلم سجاد نے کہا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ یہ بم ٹائم ڈیوائس تھا یا نہیں۔

مبصرین کے مطابق حالیہ بم دھماکے نے پاکستان بھر کے ریلوے سٹیشن پر سیکورٹی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی بھی کی ہے۔

ریلوے کی مہنگی ترین بزنس ٹرین کے ویٹنگ روم پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگایا گیا تھا اور پلیٹ فارم نمبر دو سمیت ریلوے سٹیشن میں داخلے کے مقامات پر جامہ تلاشی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ریلوے کے چیئرمین نے ملک بھر کے ریلوے سٹیشنوں میں داخلے کے تمام چور راستے فوری بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ تمام سی سی ٹی کیمروں کو دوبارہ چیک کیا جائے اور جہاں ضرورت ہے مزید کیمرے لگائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا ہے واک تھرو گیٹ پر چینکگ کو سخت کیا جائے۔

اسی بارے میں