بیلسٹک میزائل حتف چہارم کا کامیاب تجربہ

فائل فوٹو، پاکستان میزائل تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان نے جوہری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت کے حامل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل حتف چہارم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حتف چہارم یا شاہین - ون اے بلسٹک میزائل اپنے ساتھ روایتی اور جوہری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیان کے مطابق شاہین - ون اے میزائل سسٹم شاہین میزائل کی بہتر شکل ہے۔

شاہین اول میزائل کی رینج یا مار کرنے کے فاصلے میں اضافہ اور تکنیکی پیرامیٹرز میں بہتری کی گئی ہے۔

تاہم بیان میں یہ تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں کہ حتف چہارم میزائل کتنے فاصلے تک مار کر سکتا ہے۔

بیان کے مطابق بدھ کو میزائل کے تجربے کو ڈائریکٹر جنرل سٹریٹیجک پلانز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد احمد قدوائی، کمانڈر آرمی سٹریٹیجک فورس کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل طارق ندیم گیلانی، مسلح افواج کے اعلیٰ افسران، سائنسدانوں اور سٹریٹیجک اداروں کے انجینئیرز نے دیکھا۔

میزائل کے تجربے کی کامیابی اور درستگی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد احمد قدوائی نے سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ میزائل کے کامیاب تجربے سے پاکستان کے ڈیٹرنس کی صلاحتیوں کو تقویت ملے گی اور ان میں اضافہ ہو گا۔

رواں ماہ بھارت نے انیس اپریل کو جوہری ہتھیار لے جانے والے بین البراعظمی بلسٹک میزائل اگنی پانچ کا تجربہ کیا ہے جس کی مار پانچ ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

پاکستان اور بھارت اکثر اس قسم کے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں