عدالت کے اندر کا منظر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عدالت لگنے سے بہت پہلے ہی کچھا کھچ بھرچکی تھی، بس ججوں کی آمد کا انتظار تھا۔

تجسس نے ماحول کو جکڑ رکھا تھا۔ سب کو پتہ تھا کہ آج فیصلے کا دن ہے لیکن بحث اس بات پر تھی کہ کیا عدالت وزیر اعظم کو سزا دے گی یا معاف کردے گی۔

اچانک ’سائلنس‘ کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور ججوں کی آمد ہوتی ہے۔

حاضرین پر جیسے سکتہ طاری ہوجاتا ہے اور وہ اضطراب میں پہلو بدلنے لگتے ہیں۔ بریکنگ نیوز کے محاذ پر جمے صحافی اپنے اپنے موبائل فون اور وائرلیس سیٹس سنبھال لیتے ہیں۔

اور پھر عدالت فیصلہ سناتی ہے۔ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم اور چیف ایگزیکٹو کو توہین عدالت کے قانون کی دفعہ پانچ کے تحت توہین عدالت کا مجرم قرار دیا جاتا ہے اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک سزا سنائی جاتی ہے۔

لگتا یہی ہے کہ فیصلہ ہوگیا اور خبر بن گئی۔

صحافیوں میں بجلی سی کوند جاتی ہے اور وہ اپنے اپنے اداروں کو یہ خبر لکھوانا شروع کردیتے ہیں۔

لیکن فاضل عدالت جوں ہی اپنے مختصر فیصلے کے دوسرے پیرا گراف پر جاتی ہے اور ارکان پارلیمینٹ کی نااہلی سے متعلق آرٹیکل 63 کا ذکر کیا جاتا ہے تو ایک اور ہلچل مچ جاتی ہے۔

صحافی ایک اور بریکنگ نیوز اپنے اداروں کو لکھوانا شروع ہوجاتے ہیں۔

فاضل عدالت اپنا مختصر فیصلہ سناچکی تو وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کی صدا بلند ہوتی ‘مائی لارڈ! آئی ہیو اے سبمشن’۔

وہ عدالت سے کہہ رہے تھے کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

لیکن ججوں نے انہیں ایک نظر دیکھا اور پھر اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ گئے۔

اعتزاز احسن نے دوبارہ عدالت سے کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت تک ججز اپنی پیٹھ موڑ چکے تھے اور اردلی ان کے کاندھوں سے گاؤن اتار رہے تھے۔

ججوں کے لیے دن تمام ہوا تھا اور اب عدالت سے باہر عدالتیں لگنا شروع ہوگئی تھیں۔

کچھ صحافیوں نے یہ خبر بھی دیدی تھی کہ وزیر اعظم نااہل قرار پائے ہیں لیکن بیشتر صحافی یہ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ عدالتی فیصلے میں اس بارے میں اصل میں کہا کیا گیا ہے۔

عدالت کے باہر صحافی ہو یا سیاستدان یا قانونی ماہرین ہر ایک، اپنی اپنی خواہش اور سیاسی عقیدے کے مطابق عدالتی فیصلے پر فیصلہ صادر کررہا تھا۔

وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ بے وردی محافظوں کے جھرمٹ میں عدالت سے باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا ’کیا کہیے گا؟‘

ان کا جواب مایوسی سے بھرا تھا۔ ’بہت افسوسناک فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔آئین کے تحت ایسے شواہد نہیں تھے کہ اس طرح کا فیصلہ سنایا جاتا۔‘

چیف جسٹس کے جانثار وکلاء کے ایک جتھے نے عدالتی احاطے میں میڈیا کا ڈائس سنبھال لیا تھا اور صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی شیخ احسن پرجوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے ‘وزیر اعظم کو سزا ملی ہے۔ وہ مجرم قرار پائے ہیں اور ان کے پاس اس عہدے پر جمے رہنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں رہا۔۔۔۔۔۔عدلیہ کے لیے مبارکباد کا دن ہے۔‘

پاکستانی اخبار ڈان سے وابستہ صحافی اور کالم نگار سرل المائیڈا سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’عدالت نے یہ معاملہ قانونی دائرے سے سیاسی دائرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ جب ججوں کو یہ معاملہ سیاسی سطح پر جاکر چھوڑنا ہی تھا تو پھر شروع سے اسے اٹھایا ہی کیوں گیا تھا، مطلب یہ کہ وہ اس راستے پر چلے ہی کیوں تھے؟‘

نیب کے سابق نائب پروسیکیوٹر راجہ عامر کہہ رہے تھے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے وزیر اعظم کو مجرم قرار دے دیا ہے اور وہ نااہل قرار پاچکے ہیں۔

متحدہ قومی موومینٹ کے سینیٹر اور وکیل فروغ نسیم عدالتی فیصلے کی تعریف کے پل باندھ رہے تھے۔ ’ثابت ہوگیا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ آج کے فیصلے کے بعد پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی امید ہوچلی ہے۔۔۔۔۔اگر عدالت نے آرٹیکل 63 کا اطلاق کیا ہے تو اس میں صاف لکھا ہے کہ مجرم پانچ سالوں کے لیے نااہل ہوجائے گا اس کے لیے اسپیکر کو ریفرنس بھیجنا بھی ضروری نہیں ہے۔‘

ان سب باتوں کو سننے کے باوجود بیشتر صحافی یہ نہیں سمجھ پارہے تھے کہ آیا عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل 63 ون جی کے تحت کارروائی کی بات کی ہے یا صرف دھمکی دی ہے۔

کئی قانونی ماہرین سے یہ سمجھنے کی کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی تھی کیونکہ ہر قانونی ماہر کی اس فیصلے پر اپنی اپنی حتمی رائے تھی جو ایک دوسرے سے بالکل متضاد تھی۔

سینئر قانون دان ڈاکٹر عبدالباسط کی آمد ہوئی تو وہ ایک نیا نکتہ لائے تھے۔

’یہ بہت برا فیصلہ ہے اور ججوں نے اس میں جو بات کہی ہے وہ بہت مبہم ہے لیکن یہ طے ہے کہ اس فیصلے سے وزیر اعظم خودبخود نااہل قرار نہیں پائیں گے۔‘

پیپلز پارٹی کے سنیٹر بابر اعوان نمودار ہوئے تو وہ بھی دور کی کوڑی لائے تھے۔

’جب تک عدالت کے اس فیصل پر نظرثانی نہ ہو اسے حتمی تصور نہیں کیا جاسکتا اور آئین کے تحت اس پر اسپیکر قومی اسمبلی کی رائے کو ہی حتمی سمجھا جانا چاہیے۔‘

اٹارنی جنرل عرفان قادر تو یہ تک کہہ گئے کہ ’عدالتی فیصلہ ہی آئین کے منافی ہے۔‘

جتنے منہ اتنی باتیں۔ طرح طرح کی تشریحات نے عدالتی فیصلے پر ابہام کم ہونے کے بجائے بڑھا دیا ہے اور لگتا یہی ہے کہ اس خالصتاً قانونی معاملے پر ابھی مزید سیاست کی گنجائش ہے اور وہی سیاست یہ طے کرے گی کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم گیلانی کو سیاسی شہید بنائے گا یا سیاسی غازی۔