’کوٹے سے زیادہ ایفیڈرین درآمد کی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی بھی انسدادِ منشیات کا ایک ایسا مقدمہ بھگت رہے ہیں جس کی تفتیش تو انسداد منشیات کی فورس کے حاضر سروس فوجی کر رہے ہیں لیکن مقدمہ کا ایک حصہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

انسداد منشیات کی فورس (اے این ایف) نے اپنی تفتیش میں وزیر اعظم کے صاحبزادے کا نام ایک ایسے کیمیکل ایفیڈرین کی مبینہ غیر قانونی درآمد اور استعمال کے سلسلے میں لیا ہے جس سے ادویات کے علاوہ منشیات بھی تیار کی جاسکتی ہیں۔

استغاثہ کےمطابق بے ضابطگی کا آغاز گزشتہ برس ہوا جب انسدادِ منشیات کے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے کوٹے سے زیادہ ایفیڈرین درآمد کی گئی اور پاکستان میں دو نجی کمپینوں کو متعین کوٹے سے کئی گنا زیادہ کیمیکل فراہم کیا گیا۔

انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ نے پاکستان کے لیے ایفیڈ رین کیمیکل کی سال بھر کی مقدار بائیس ہزار کلو گرام مقرر کررکھی ہے لیکن اس کے برعکس اکتیس ہزار کلو گرام ایفیڈ رین درآمد کی گئی۔

اس وقت بتایا گیا کہ اضافی نو ہزار کلو ایفیڈ رین عراق اور افغانستان کو ادویات بنانے کے لیے برآمد کردیا جائے گا لیکن چند ماہ بعد وزارتِ صحت نے اس کو ملک میں ہی استعمال کے لیے مختص کر دیا جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت صحت نے اضافی نو ہزار کلو دو مخصوص کمپنیوں کو الاٹ کیا حالانکہ قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی کمپنی کو ایفیڈرین کیمیکل پانچ سو کلو سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔

ایفیڈرین کیمیکل سانس لینے میں دشواری کی ادویات کو بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس سے نشہ آور ادویات بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

جس وقت یہ کوٹہ الاٹ کیا گیا اس وقت خوشنود لاشاری وفاقی سیکرٹری صحت تھے جو ان دنوں وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے پرنسپل سیکرٹری ہیں۔

شک و شبہات اس وقت تقویت اختیار کرگئے جب کوٹہ جاری کیے جانے والی دونوں کمپنیاں اے این ایف کی تحقیقات کرنے والے افسران کو ان کے استعمال کے بارے میں کسی بھی قسم ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔

اے این ایف نے دس اکتوبر سنہ دو ہزار گیارہ کو راولپنڈی میں ایفیڈ رین کیمیکل کی ایف آئی آر ردج کی۔

اے این ایف کی تفتیش میں وزیر اعظم کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی اور پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری کا نام آیا جس کے بعد اے این ایف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

اسی دوران وفاقی حکومت نے اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل شکیل حسین کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا حالانکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہونے میں صرف تین ہفتے باقی تھے۔

ان کی جگہ نارکاٹکس کنٹرول ڈویژن کے سیکرٹری ظفر عباس لک کو اے این ایف کے سربراہ کی اضافی ذمے داری سونپ دی گئی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا تین رکنی بینچ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں اس مقدمہ کی سماعت کر رہا ہے۔

اے این ایف کے نئے اور قائم مقام سربراہ ظفر عباس لک نے سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک سماعت میں مقدمہ الٹ دیا۔

انہوں نے اے این ایف پر جھوٹے مقدمات بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کے ماتحت افسران ان کے احکامات نہیں مانتے۔

دوسری طرف انسداد منشیات کی فورس کے ریجنل کمانڈر بریگیڈئیر فہیم نے الزام لگایا کہ ظفر عباس لک تفتیش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈرگ سکینڈل کے مقدمے میں وزیراعظم کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسی گیلانی اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری کو نوٹس جاری کر دیئے۔

حکومت کی جانب سے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے اے این ایف کے ریجنل ڈائریکٹر بریگیڈئیر فہیم احمد خان اور عابدذوالفقار کے تبادلے کے احکامات معطل کرتے ہوئے انہیں تفتیش جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ایفیڈرین کیمیکل کے سکینڈل میں ملوث دو ادوایہ کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کی عبوری ضمانت خارج ہونے پر اینٹی ناکوٹکس فورس نے دونو ں کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کر لیا۔

دوسری جانب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے صاحبزادے علی موسی گیلانی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

علی موسی گیلانی نے کہا ہے کہ ان کو اس جھوٹے مقدمے میں صرف اس لیے پھنسایا جا رہا ہے کیوں کہ وہ وزیراعظم کے بیٹے ہیں۔

علی موسیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ چالیس صفحات کی انکوائری رپورٹ میں صرف ایک سطر میں ان کا نام آیا اور وہ بھی محض اتنا کہ دو کمپنیوں کو کوٹہ الاٹ کرنے کے لیے کسی نے فون کرکے خود کو علی موسی گیلانی کے نام سے متعارف کرایا تھا۔

اسی بارے میں