حکومت، عدلیہ کشیدگی‎دو ہزار آٹھ سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں موجودہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان میچ پیپلز پارٹی حکومت کے سال دو ہزار آٹھ میں قیام کے چند ماہ بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آتے ہی سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی فوری بحالی کے مطالبات سامنے آنے لگے تھے۔

اسی مطالبے کو جواز بنا کر مسلم لیگ نون نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور بعد میں لاہور سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ بھی کیا، مگر حکومت نے بحالی کے مطالبے کے مخالفت لانگ مارچ کے لاہور سے گوجرانوالہ تک پہنچنے تک کی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی تاخیر سے بحالی کے بعد حکومت اور عدلیہ میں کشیدگی‎کا بظاہر نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوگیا، جس میں کبھی حکومت کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا تو کبھی عدلیہ کا۔

دسمبر دو ہزار نو کو سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے دیا اور قومی احتساب بیورو کو تمام مقدمات دوبارہ کھولنے کی ہدایت کی۔

یہ متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پانچ اکتوبر دو ہزار سات کو جاری کیا گیا تھا۔

اس آرڈیننس کے تحت یکم جنوری انیس سو چھیاسی سے لیکر اکتوبر انیس سو ننانوے کے درمیان سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں پر دائر بدعنوانی، غبن اور بعض دیگر مقدمات واپس لے لیے گئے تھے۔

اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں میں صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو بھی شامل تھیں۔

پیپلز پارٹی نے اس فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

Image caption متنازع این آر او آرڈیننس سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیا گیا تھا

صدر زرداری نے جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج اور جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا تو ایک مرتبہ پھر حکومت اور عدلیہ کے درمیان ٹھن سی گئی۔

فروری دو ہزار دس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دونوں نوٹیفکیشن منسوخ کر دیے۔

مارچ دو ہزار دس کو سپریم کورٹ میں جعلی ڈگری کا معاملہ زیر بحث آیا، جس میں حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی اس کی زد میں آئے اور ان سے سخت پوچھ گچھ ہوئی، نتیجے میں وہ مستعفی ہوگئے، پیپلز پارٹی نے جمشید دستی کو دوبارہ ٹکٹ دیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کی، اس موقعے پر پیپلز پارٹی نے اسے عوام کا فیصلہ قرار دیا۔

اکتوبر دو ہزار دس میں سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی بعض شقوں پر اعتراض کیا، ان شقوں میں ججز کے تقرری کا طریقہ کار واضح کیا گیا تھا سپریم کورٹ نے ان تجویزوں کو مسترد کر دیا اور پارلیمنٹ کو نظر ثانی کی ہدایت کی۔

حکومت نے اس فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا، جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ اس طرح ججوں کی تقرریوں کا اختیار حکومت سے عدلیہ کو حاصل ہوگیا۔

حکومت نے اکتوبر دو ہزار دس میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کو قومی احتساب بیورو کا سربراہ مقرر کیا۔

ان کی اس تقرری پر مسلم لیگ ن کے رہنما اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے اعتراض کیا، اسی اعتراض کو وہ سپریم کورٹ میں لے گئے، عدالت نے جسٹس دیدار علی شاہ کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی کی اپیل پر سندھ میں ہڑتال کی گئی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سندھ کے لوگوں کو اداروں میں برداشت نہیں کیا جا رہا۔

دسمبر دو ہزار دس کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبروں کا ازخود نوٹس لیا اور سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا۔

یہ اس مقدمے میں بھی حکومت کو پریشانی کا سامنا رہا اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو گرفتار کر لیا گیا۔

دو ہزار گیارہ میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز نے ایک اخبار میں مضمون لکھا، جس میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان کے ایک اعلٰی سفارتکار نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد خفیہ ذرائع سے اس وقت کے امریکی فوج کے اعلٰی ترین عہدیدار کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا۔ اس مراسلے میں پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ممکنہ فوجی اقدام کے خطرے کے خلاف امریکی حکومت سے مدد طلب کی گئی تھی۔

اکتوبر دو ہزار گیارہ میں مسلم لیگ نون نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، اس دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی مستعفی ہوگئے۔ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ شجاع پاشانے خصوصی طور پر منصور اعجاز سے بھی ملاقات کی۔

ان ہی دنوں میں وزیراعظم کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ ریاست کے اندر ریاست کسی صورت میں قبول نہیں کی جائیگی۔ میڈیا میں ایک مرتبہ پھر یہ تاثر ابھرا کہ کسی وقت بھی حکومت مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے قبل روانہ کر دی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے میمو کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کر دیا جس کی کارروائی ابھی تک جاری ہے جبکہ سینیٹ کے انتخابات بھی ہوگئے۔

سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد پر نگرانی جاری رکھی، رواں سال جنوری میں عدالت نے این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر حکومت کو وارننگ دی، جس میں صدر زرداری کے خلاف دائر مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کو خط تحریر کرنے کا حکم بھی شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کا موقف تھا کہ صدر زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے لہذٰاسوئس حکام کو خط نہیں لکھا جائے گا

حکومت کا موقف تھا کہ صدر زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے لہذٰاسوئس حکام کو خط نہیں لکھا جائے گا، عدالت نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، مگر گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے بجائے جیل جانے کوترجیح دیں گے۔

تیرہ فروری کو توہین عدالت کے الزام میں وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو اور چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعے پر صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نشانہ بنایا اور بینظیر بھٹو قتل کیس اور ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے بارے میں سوال کیے۔

توہین عدالت کیس میں بھی کئی پیش گوئیاں کی گئیں، اور کئی روز تک یہ معاملہ چلتا رہا اور اس کا اختتام وزیراعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دینے پر ہوا۔ این آر او مقدمات سمیت دیگر کئی متنازع معاملات ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کی مشکلات ابھی بھی آسان نہیں ہوئیں۔

اسی بارے میں