فیصلے پر قانونی ماہرین کا ملا جلا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم کو اب اخلاقی اور دانش مندی کا مظاہرہ کر کے مستعفی ہو جانا چاہیے: ایس ایم ظفر

سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مرتکب قرار دیے جانے کے فیصلے پر قانونی ماہرین اور وکلاء نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ممتاز قانون دان اور سابق وفاقی وزیر ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے تحت تو وزیراعظم کو عدلیہ کی تضحیک کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ عدلیہ نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ایک جی کے تحت تو فیصلہ نہیں دیا ہے لیکن بلاواسطہ طور پر اس شق کا فیصلے سے تعلق بنتا ہے جس کے مطابق اب وزیراعظم پارلمینٹ کی رکنیت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’جہاں تک وزیر اعظم کی نااہلیت کا تعلق ہے تو اخلاقی طور پر اب وہ ہمارے وزیراعظم نہیں رہے کیونکہ نااہلیت ان کے ساتھ منسلک ہو چکی ہے لیکن آئین کے مطابق ان کے پاس کچھ وقت ضرور ہے جب تک سپیکر قومی اسمبلی ان کا معاملہ الیکشن کمیشن کو نہ بھیج دیں۔‘

ایس ایم ظفر کے مطابق اب یہ وزیراعظم پر منحصر ہے کہ وہ اس مدت کا فائدہ اٹھائیں گے یا مزید بدنامی سے بچ کر اور اپنے لیے مقام پیدا کرنے کےلیے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کر کے اپنے عہدے سے استعفٰی دینگے۔

انہوں نے کہا ’وزیراعظم کو اب اخلاقی اور دانش مندی کا مظاہرہ کر کے مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ کوئی وجہ نہیں بنتی کہ وہ اتنے بڑے ملک جو ایک جوہری طاقت ہے اسکی باگ ڈور سنبھالے رکھیں۔‘

ایس ایم ظفر کے بقول اگر ایسی حالت میں وزیراعظم بیرونی ملک جاتے ہیں وہاں کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو وہاں کے حکمران تو یہی سمجھیں گے کہ ان کے دن تو گنے جا چکے ہیں، ان سے کیا معاہدہ کرنا اور ان کے وعدوں پر کیا اعتبار کرنا۔

انہوں نے کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی کو نہ اپنا نقصان کرنا چاہیے اور نہ ملک کا بلکہ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی کرسی خالی کردیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عدلیہ کا وقار بلند ہوا ہے اور نہ پارلمینٹ کا بلکہ اس سے ابہام بڑھ گیا ہے اور اب ایک لمبی قانونی جنگ کی سی صورتحال پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کی نااہلیت کی شق تو لگائی ہے مگر قومی اسمبلی کے کسی رکن کی نااہلیت کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار ہوتا ہے اور اس طرح کسی رکن اسمبلی کو خود بخود نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا فیصلہ اب سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا اور وہاں اس پر فیصلہ کرنے میں تیس دن لگ سکتے ہیں اور پھر یہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا وہاں بھی ایک ماہ تاخیر ہو سکتی ہے اور پھر ہر فیصلے کے خلاف اپیل بھی ہو سکتی ہے تو اس طرح یہ مقدمہ ایک لمبی قانونی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے کسی رکن کی نااہلیت کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار ہوتا ہے: عاصمہ جہانگیر

انہوں نے کہا کہ عدلیہ وزیراعظم کے اس توہین عدالت کیس میں بہت گہرائی تک چلی گئی تھی حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھی جبکہ اس سلسلے میں جو اصل فیصلہ آیا تھا اس پر تنقید کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا ’عام تاثر یہی ہے کہ عدلیہ نے خود کو بہت سے سیاسی مسائل میں الجھا لیا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ملک کا آمریت سے جمہوریت تک جو عبوری سفر چل رہا ہے اس میں عدلیہ رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔‘

ادھر دوسری طرف ممتاز قانون دان جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ عدلیہ نے آئین کی جس شق کے تحت سزا سنائی ہے اس کے مطابق وزیراعظم کی نااہلیت خود بخود ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے تحت تو اس کیس میں سپیکر قومی اسمبلی کا کوئی کردار بنتا ہی نہیں کیونکہ آئین کے شق باسٹھ دو کے تحت معاملہ اس وقت سپیکر کو جاتا ہے جب کوئی سوال اٹھ رہا ہو مگر اس مقدمے میں جو سوال اٹھایا گیا تھا اس کا جواب تو عدالت اپنے فیصلے میں دے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں اپیل کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اپیلٹ بیج سپریم کورٹ کے دیگر ججوں پر مشتمل ہوگا یعنی یہ جج نہیں ہونگے جنہوں نے وزیراعظم کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں