توہینِ عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم گیلانی کو سزا

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جج وزیراعظم کی بات سنے بغیر ہی اٹھ کر چلے گئے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈینینس یعنی این آر او پر عملدرآمد سے متعلق مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا سنا دی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو سنایا۔ اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں موجود تھے۔ وزیرِ اعظم اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے انہیں توہینِ عدالت میں ’جب تک عدالت کا وقت ختم نہیں ہوتا تب تک کی سزا‘ سنائی جس کا دورانیہ ایک منٹ سے کم تھا کیونکہ سزا سنانے کے ساتھ ہی عدالت برخاست ہوگئی۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے۔یہ اس قسم کے مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں میں سے سب سے کم سزا ہے اور وزیراعظم کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔

وزیراعظم توہین عدالت کے مجرم: آپ کی رائے

گیلانی فوراً عہدہ چھوڑ دیں: نواز شریف

وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ: خصوصی ضمیمہ

عدالتی فیصلے پر غور اور پارٹی کا لائحہِ عمل طے کرنے کے لیے وزیرِ اعظم گیلانی اپنی کابینہ کے ارکان اور جماعت کے دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے دانستہ عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کا یہ عمل انصاف کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کی وجہ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا۔ فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس آرٹیکل کے تحت نااہل بھی ہو سکتے ہیں تاہم عدالت نے فیصلے میں پارلیمان کے سپیکر کو وزیراعظم کی نااہلی کے لیے ضروری کارروائی کرنے کو نہیں کہا ہے۔

فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور اس مقدمے میں وکیلِ استغاثہ کا کردار نبھانے والے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آئین میں وزیراعظم کی براہ راست نا اہلی کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کی سپیکر سجھیں گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے تو پھر ہی اس معاملے کو الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے گا۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے توہین عدالت آرڈیننس کے تحت وزیراعظم کو جو سزا سُنائی ہے اُس آرڈیننس کا وجود ہی نہیں ہے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے کہا ’ہماری جماعت کی قانونی ٹیم اس فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرے گی جبکہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس فیصلے پر غور کیا جائے گا‘۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے سے سزا معطل ہوجائے گی۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جب عدالت پہنچے تو ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ ان کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے ارکان، حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت آئے۔ یہ تیسرا موقع تھا کہ وزیراعظم اس مقدمے میں سات رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ اور اس کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف این آر او سے متعلق مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا مقدمہ اس سال سولہ جنوری کو شروع ہوا تھا جب سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نےانہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے انہیں پہلی بار انیس جنوری کو خود پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں تیرہ فروری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی تھی اور سماعت کے بعد چوبیس اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں