’وزیراعظم کو آئینی طریقہ کار سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم گیلانی کی سزا کے خلاف ملک میں احتجاج بھی ہوا ہے

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا سنائے جانے کے بعد جمعرات کی شام کو ایوان صدر میں حکمراں پیپلز پارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقدہ ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یوسف رضا گیلانی ایک منتخب وزیر اعظم ہیں اور انھیں آئین میں درج طریقہ کار کے تحت ہی ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔

ایوان صدر میں منعقد اجلاس کی صدارت صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے مشترکہ طور پر کی جس میں وفاقی وزراء، جماعت کے اعلی عہدے داروں کے علاوہ توہین عدالت کے کیس میں وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں کہاگ گیا کہ ملک کے منتخب وزیراعظم کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی کے دفاع کی سزا دی گئی ہے۔

جمعرات کی صبح پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت کی برخاستگی تک قید کی علامتی سزا سنائی تھی۔

وزیراعظم توہین عدالت کے مجرم: آپ کی رائے

گیلانی فوراً عہدہ چھوڑ دیں: نواز شریف

وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ: خصوصی ضمیمہ

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے۔

ایوانِ صدر میں منعقد اجلاس کے بعد صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں اس امر پر مایوسی ظاہر کی گئی کہ جہاں کسی بھی ڈکٹیٹر کو آئین معطل یا منسوخ کرنے پر سزا نہیں ملی وہیں ایک جمہوری طور پر منتخب ہونے والے وزیراعظم کو آئین کے دفاع پر سزا دے دی گئی ہے۔

صدارتی ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا وہی ملک کے منتخب وزیراعظم ہونے کے ناتے انہیں صرف آئین میں وزیراعظم کی برطرفی کے طریقۂ کار کے تحت ہی ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے وزیراعظم گیلانی کو آئین کے دفاع کے لیے وقار اور حوصلے سے ڈٹے رہنے پر مبارکباد دی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غوروخوص کے لیے بعد سیاسی بلوغت اور فہم و فراست کے ساتھ نئے چیلنجز کا مناسب جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اس اہم اجلاس سے قبل حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں بھی وزیراعظم کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔

اس سے قبل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولوی تمیز الدین کے کیس میں نظریۂ ضرورت نہ ہوتا تو پاکستان کا مستقبل مختلف ہوتا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کو سزا سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ان کی جانب سے عدالت کی حکم عدولی انصاف کے لیے نقصان دہ ہے اور اس وجہ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا۔

فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس آرٹیکل کے تحت نااہل بھی ہو سکتے ہیں جبکہ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی اور وزیراعظم کو جس الزام کے تحت سزا دی گئی اس کا ان پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ذکر ہی نہیں تھا۔

اسی بارے میں