اب کیا رکاوٹ ہے ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تیرہ فروری سنہ دو ہزار بارہ کو پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی پر سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کی باقاعدہ فردِ جرم عائد کی کیونکہ انہوں نے صدر زرداری کے مشکوک بینک اکاؤنٹس کی بابت سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کردیا تھا۔

سترہ فروری کو جرمن صدر کرسٹیان ولف نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا کیونکہ ایک موقر جرمن اخبار بلڈ میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ صدر ولف نے عہدہ سنبھالنے سے قبل اپنے ایک کاروباری دوست سے پانچ لاکھ یورو کا رعایتی قرضہ لیا اور انہوں نے اس قرضے کی حقیقی نوعیت کو پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی۔

سولہ اپریل سنہ دو ہزار بارہ کو وزیرِ اعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے موکل نے توہینِ عدالت نہیں کی، صرف آئین میں حاصل صدارتی استسنی کی پاسداری کی ہے۔

اٹھارہ اپریل کو سپین کے شاہ ہوان کارلوس نے قوم سے اس بات پر تحریری معافی مانگی کہ ایک ایسے وقت جب ملک شدید اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہے انہیں بوٹسوانا میں ہاتھیوں کا شکار نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔

چھبیس اپریل کو سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم گیلانی کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر تا برخواستِ عدالت قید کی سزا سنادی مگر ان کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یوسف رضا گیلانی کی آئینی حیثیت متاثر نہیں ہوتی اور وہ بدستور وزیرِ اعظم ہیں۔

وزیرِ اعظم کے حامیوں کی یہ دلیل قابلِ غور ہے کہ عدالت کا نزلہ صرف سیاستدانوں پر ہی گرتا ہے، آج تک کسی فوجی حکمران کو قانون کی حکمرانی کا ڈراوا کیوں نہیں دیا گیا یعنی جس طرح قانون سب کے لیے مساوی ہونا چاہیے اسی طرح لاقانونیت بھی سب کے لیے برابر ہونی چاہیے۔

جرمن صدر کو بھی اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بجائے یہ کہنا چاہیے تھا کہ جو اخبار ان پر پارلیمنٹ سےذاتی مالی معاملات چھپانے کا الزام لگا رہا ہے کیا وہ ایڈولف ہٹلر کے دور میں بھی اتنی ہی جرات کا مظاہرہ کرسکتا تھا۔

اور سپین کے شاہ ہوان کارلوس کو بھلا قوم سے معافی مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔کیا کسی نے ان سے کہا تھا کہ معافی مانگو۔ کیا یہ بات بادشاہ کے منصب کے شایانِ شان ہے کہ وہ اپنی رعایا سے معافی مانگتا پھرے۔

ہوان کارلوس نے تو فرانکو کی فاشسٹ آمریت کی جگہ ہسپانوی عوام کو جمہوریت کا تحفہ دیا تھا، کیا فرانکو نے عوام سے کبھی معافی مانگی؟ یہ کیسا بادشاہ ہے جو رائل پروٹوکول سے بھی ناواقف ہے؟

میں بھی اس وقت کیا بے جوڑ مثالیں دے رہا ہوں۔ بھلا جرمنی اور سپین کے حکمرانوں کا پاکستان کے حکمرانوں سے موازنہ کر کے میں ثابت کیا کرنا چاہتا ہوں ؟

پاکستان کے حالات، نفسیات، اخلاقیات اور مسائل مختلف ہیں۔ جرمن اور ہسپانوی بھلا پاکستانی سیاست کی پیچیدگیاں کیا جانیں۔ یہ ملک اور، اس کی آب و ہوا اور۔

مارشل لا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فوج آئین اور عدلیہ کی حکمرانی تسلیم نہیں کرتی۔طالبان تو ویسے بھی اینگلو سیکسن عدالتی نظام کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس پر کھلم کھلا تین حرف بھیجتے ہیں۔اب سیاستداں بھی عدلیہ کو نقار خانے کی طوطی میں بدلنا چاہتے ہیں۔

جب فوج، طالبان اور سیاستدان عدلیہ کے بارے میں ایک ہی صفحے پر ہیں تو پھر سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور لوئر کورٹس کی بڑی بڑی عمارات کے تکلف کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ اینٹ پتھر کے ان ڈھانچوں کو یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور یتیم خانوں میں بدلنے میں اب کیا رکاوٹ ہے؟

اسی بارے میں