’مصیبت کو کیسے جیت میں تبدیل کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم گیلانی پرسکون نظر آ رہے تھے اور حامیوں کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا

تین ماہ قبل عدالت عظمیٰ کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کی حکومت کے خلاف مقدمات کی بھرمار نے بظاہر حکومت کو بھنور میں دھکیل دیا۔

ملک کی طاقتور فوج نے متنازع میمو کے معاملے میں کھلے عام اپنا وزن عدالیہ کے پلڑے میں ڈالا دیا۔

ایک دوسرے کیس میں بشاش ججوں نے توہین عدالت کیس میں وزیراعظم گیکانی کو ’بادی النظر میں ایک بے ایمان شخص‘ قرار دے دیا۔

جمعرات کو بظاہر زیر کرنے والے سات رکنی بینچ نے وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے تقریباً تیس سکینڈ تک قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے اس قانون کے تحت ان مجرم قرار دیتے ہوئے چھوڑ دیا جس میں وہ ایک خودکار طریقے سے آگے چل کر نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں۔

تو کیا وزیراعظم ممکنہ سیاسی بحران کو ایک جیت یا فتح میں تبدیل کر پائیں گے؟

جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر وزیراعظم شلوار قمیض کے اوپر شیروانی کے قومی لباس میں ملبوس تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم گیلانی کے ساتھ ان کی کابینہ کے اراکین اور پارٹی رہنماؤں کے رہنما موجود تھے اور وہ عدالت کے احاطے میں پیدل داخل ہوتے ہوئے عدالت نمبر چہارم میں گئے جہاں پر ان کے خلاف فیصلہ سنایا جانا تھا۔

وہ اس موقع پر پرسکون لگ رہے تھے اور عدالت کے باہر موجود درجنوں کی تعداد میں جمع اپنے حامیوں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔

کمرۂ عدالت میں جب ان کے خلاف فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا تو انہوں نے عدالت سے چار الفاظ کے جملے’ مائی لارڈ اے سبمشن‘ میں تین بار کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن سات رکنی بینچ نے فیصلے کے فوری بعد کمرۂ عدالت سے جاتے ہوئے ان کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔

چند لحمات کے بعد وہ ایک آزاد شہری کی طرح کمرۂ عدالت سے باہر نکلے اور ان جماعت پیپلز پارٹی کے خواتین کارکنوں کے فتح یا کامیابی کے نعرے کا مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

اس طرح وزیراعظم گیلانی کے ٹرائل کا پر جوش ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

تو کیا عدالتی فیصلہ قابل حیرانگی ہے؟

جو لوگ ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھتے ہیں ان کے لیے بلکل ایسا نہیں ہے۔

کیا سکینڈل دھیما پڑ گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم کے خلاف فیصلے پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے

ملک میں گزشتہ چند سالوں کے دوران میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ملک کی عدالت عظمیٰ اپنے مخصوص یا منتخب کردہ کیس میں ہی فیصلے سنا رہی ہے اور اس کا حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ رویہ سخت جب کہ فوج اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں سے رویہ نرم ہے۔

ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ روایتی طور پر پیپلز پارٹی پر اعتماد نہیں کرتی ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں نے اس نے دوبارہ اس وقت حملہ آور ہونے کی کوشش کی جب متنازع میمو کا معاملہ سامنے آیا۔

یہ حملہ میمو تنازع کے گرد گھومتا رہا جس میں امریکہ میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر حسین حقانی پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر امریکہ سے کہا کہ وہ ملک میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے میں مداخلت کرے۔

جب سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا تو فوج کے اس سکینڈل کو سامنے لانے میں کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے شروع ہوئے۔

اس کے بعد دسمبر کے آخر میں وزیراعظم گیلانی نے پارلیمان میں ایک بے مثال بیان دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری حکومت مشکل وقت میں فوج کے ساتھ کھڑی ہوئی اور وہ ’ فوج‘ ریاست کے اندر ریاست نہیں ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان ملک کے زیادہ تر حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سبب بنا اور بظاہر فوج پیچھے ہٹ گئی اور متنازع میمو کے معاملے کو دھیما ہونے کی اجازت دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کے باہر وزیراعظم کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی

وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیے جانے کا معاملہ بھی بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے ا۔

عدالت نے وزیراعظم گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او پر دیے گئے اپنے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیا ہے۔

این آر او کے فیصلے میں عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں۔

اب جس طرح سے متنازع میمو کا معاملہ دھیما پڑ گیا ہے اسی طرح سے توہین عدالت کا معاملہ بھی ٹھنڈا پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

جمعرات کے فیصلے پر کئی لوگوں کو یقین ہے کہ عدالت نے مشکل ہوتی صورتحال کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا معاملہ دوسروں پر چھوڑ دیا ہے جو میڈیا، پارلیمان اور حزب اختلاف کی جماعت میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

توہین عدالت کے مقدمے میں ایک سخت اور جلد فیصلے کی توقع تھی لیکن یہ کیس سست روی سے تین ماہ تک چلتا رہا۔

ملک میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت چند دیگر سیاسی رہنما عدالتی فیصلے کے تناظر میں وزیراعظم گیلانی سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں اور آئندہ آنےوالے دنوں میں میڈیا بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے گا۔

تو کیا پارلیمان بھی اسی طرح کا مطالبہ کرے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حزب اختلاف کے ایک رہنما نے عدالت کے باہر غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ وزیراعطم گیلانی کو عہدہ برقرار رکھنے کے لیے پارلیمان میں اراکین کی مطلوبہ حمایت حاصل ہے۔

یہاں تک کہ اگر آئندہ آنے والے دنوں میں کسی وقت نااہل قرار دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں پارلمیان میں موجود حزب اختلاف ان کے متبادل کو منتخب کرنے کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا جارحانہ رویہ دیکھتے ہوئے مسلم لیگ نون ایک ایسے ماحول میں پیپلز پارٹی سے محاذ آرائی نہیں کرے گی جہاں غیر جمہوری طاقتیں خاص طور پر فوج کوئی گنجائش ملنے پر آگے آ سکتی ہے۔

اس محاذ آرائی کے نتیجے میں ملک میں پہلے سے سکیورٹی کی ابتر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

اس طرح کا عندیہ اس وقت ملا جب جمعرات کو عدالتی فیصلے کے فوری بعد جنوبی پنجاب اور صوبہ سندھ کے زیادہ تر حصوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بازاروں کو زبردستی بند کر دیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کر دی۔

اسی بارے میں