’اگر ہمت ہے تو تحریکِ عدم اعتماد لے آئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجھے آئین کا تحفظ کرنے پر سزا ہوئی، وزیراعظم گیلانی

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ انہیں سازش کر کے اقتدار سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور جو انہیں ہٹانے کے خواہشمند ہیں ان میں اگر ہمت ہے تو وہ تحریکِ عدم اعتماد لے آئیں۔

جمعہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا انہیں اور کوئی نہیں صرف قومی اسمبلی کی سپیکر نااہل قرار دے سکتی ہیں۔

وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ: خصوصی ضمیمہ

انہوں نے سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’خواہ کوئی فیصلے آئے حتمی اختیار آپ کا ہے، آپ نے اپنا ذہن بنانا ہے، آپ نے خود عدالت لگانی ہے، آپ نے خود سب سے پوچھنا ہے اور اس کے بعد اگر پارلیمان مجھے ڈی نوٹیفائی کرتا ہے تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم گیلانی جارحانہ موڈ میں نظر آئے اور انہوں نے عدالت کا نام لیے بنا جہاں اپنی سزا کو غلط قرار دیا وہیں مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت پر طنز اور تنقید کے تیر بھی برسائے۔

ان کے خطاب کے دوران مسلم لیگ (ن) کے کئی اراکین ایوان میں موجود رہے اور کافی دیر بعد وہ خاموشی سے ایوان سے اٹھ کر لابی میں چلے گئے اور وہاں تقریر سنی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے توہینِ عدالت کے جرم میں سزا دیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ وزیراعظم نے ایوانِ زیریں سے خطاب کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے آئین کا تحفظ کرنے پر سزا ہوئی اور ہم چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آئے، ہم ایوان میں عوام کی وجہ سے ہیں اور میں اٹھارہ کروڑ عوام کا متفقہ منتخب وزیراعظم ہوں، مجھے مالی کرپشن یا اخلاقیات کی بنا پر سزا نہیں ہو رہی صرف اس لیے ہورہی ہے کہ میں اس ملک کے آئین کا تحفظ کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ جس طرح اتحادیوں کی حکومت وہ چلا رہے ہیں اس طرح میاں نواز شریف نہیں چلاسکتے کیونکہ ان میں آن شان اور انا بہت ہے۔

’جتنا میں نے ان کو اکوموڈیٹ کیا کوئی کر ہی نہیں سکتا، تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن فنڈز لے رہی ہے، اگر ان کی عزت ہوئی ہے سٹیٹس بنا ہے تو وہ ہم نے بنایا ہے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیےلیکن پنجاب میں میرے بیٹے کو بھی فنڈز نہیں دیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے عدالت کا نام لیے بنا کہا ’ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ملتان میں جو ضمنی الیکشن ہوا ہے وہ سیٹ پیپلز پارٹی نے سنہ انیس سو اٹھاسی سے کبھی نہیں جیتی کل وہ جیت گئی اور اس سے پہلے جب میں عدالت میں کھڑا تھا تو میرا بیٹا ضمنی الیکشن میں ترانوے ہزار ووٹ لے کر جیت گیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک عدالت ادھر ہے اور ایک عدالت عوام کی ہے، آپ نے تو بھٹو صاحب کو بھی پھانسی دے دی مگر کیا آپ سوچوں پر قدغن لگا سکے؟۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ اب وہ دور گذر گیا جب کسی کی بے ساکھیوں پر لوگ اقتدار میں آتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی مصالحت کی سیاست کو کوئی کمزوری سمجھتا ہے تو وہ غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں نظام کو لپیٹنے نہیں دوں گا، ان کا مقصد کیا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹائیں اور پھر کہیں کہ جناب ابھی ووٹر لسٹ نہیں بنی الیکشن نہیں ہوسکتا اور کسی قسم کی ٹیکنو کریٹ حکومت بنادیں۔

انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف چودھری نثار کے گزشتہ روز دیے گئے اس بیان پر افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ سزا ملنے کے بعد وزیراعظم کو پارلیمان میں نہیں آنے دیں گے۔

وزیراعظم نے میاں برادران کے بارے میں کہا ’ایک بھائی کہتے ہیں کہ میں صدر کو نہیں مانتا، دوسرے بھائی کہتے ہیں کہ میں وزیرِ اعظم کو نہیں مانتا اور باقی نون لیگ کہتی ہے کہ ہم عمران خان کو نہیں مانتے، ہمیں عوام نے منتخب کیا ہے اور دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔‘

اس سے پہلے چوہدری نثار علی خان نے ایک روز قبل دھمکی دی تھی کہ وہ سزا یافتہ وزیراعظم کو ایوان میں آنے نہیں دیں گے تاہم ان کی جماعت کے کسی رکن نے وزیراعظم کی آمد اور تقریر پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر مسلم لیگ نون کو تھوڑا بھی یقین ہو تو وہ ان کی حکومت گرانے میں دیر نہیں کریں گے۔ جبکہ انہیں مسلم لیگ نون کی حکومت ختم کرنے کا یقین ہو تب بھی وہ اسیا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی اکثریت ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس بیورو کے فنڈز پنجاب حکومت گرانے کے لیے استعمال ہوئے تو وہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومتیں پیسوں سے نہیں گرائی جا سکتیں بلکہ اس کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا کہ فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں، موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔

اسی بارے میں