خیبر ایجنسی: باون ہزار خاندانوں کی رجسڑیشن مکمل

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اب تک باون ہزار سے زیادہ خاندان نوشہرہ کے قریب قائم جلوزئی کیمپ میں رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید خاندانوں کی رجسٹریشن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ان متاثرین کی ایک بڑی تعداد اپنے طور پر یا تو پشاور اور نوشہرہ میں کرائے کے مکانات میں رہ رہے ہیں یا پھر اپنے رشتہ داروں کے پاس رہائش پذیر ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے انچارج فیض محمد فیضی کا کہنا ہے کہ کیمپ میں کل باون ہزار خاندان رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں سے سینتالیس ہزار خاندان اپنے طور پر رہ رہے ہیں۔

حالیہ نقل مکانی تحصیل بازہ کی سات اقوام نے کی ہے اور انھیں پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے فوری طور پر خالی کردیں جبکہ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں علاقہ خالی کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں فوجی آپریشن کیا جائے گا یا کیا جا رہا ہے۔

تحصیل باڑہ میں ظاہری طور پر اس طرح کی کوئی بڑی فوجی کارروائی ہوتی نظر نہیں آ رہی جس کے لیے علاقے خالی کروائے گئے ہوں لیکن نقل مکانی کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن تو گزشتہ تین سال سے جاری ہے۔

ایک متاثرہ شخص اقبال آفریدی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ علاقے میں تین سالوں سے بد امنی ہے ، کاربار، تجارتی مراکز، سکول سب کچھ بند ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا علاقے میں کوئی فوجی آپریشن ہو رہا ہے تو ان کا کہنا تھا مذید آپریشن اور کیا ہوتا ہے، علاقے میں کرفیو ہے، مکانات کو مسمار کیا جا رہا ہے، سکول اور سڑکیں تباہ ہو گئے ہیں بچے، بڑے اور خواتین کوئی محفوظ نہیں جبکہ آئے روز راکٹ اور مارٹر گولے داغے جاتے ہیں۔

اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہو رہی اس لیے کئی لوگ کیمپ کے باہر مسجدوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک اور متاثرہ شخص میر علی نے بتایا کہ وہ تین سال پہلے یہاں کیمپ میں آئے تھے اور اب تک ان کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے شناختی کارڈ میں لنڈی کوتل اور باڑہ کے دو پتے لکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں تین سال سے حالات خراب ہیں اب باڑہ سے نقل مکانی شروع ہوئی ہے اور یہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔

متاثرہ افراد نے بتایا کہ ایسے خاندان بھی ہیں جنھیں ضروریات کا سامان نہیں مل رہا اور انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے میں آئی ڈی پیز کے انچارج فیض محمد فیضی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ بیس جنوری سے شروع ہونے والی نقل مکانی میں اب تک سینتالیس ہزار ایک سو اسی خاندانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ اس سے پہلے پانچ ہزار خاندان رجسٹر ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کل ملا کراب تک باون ہزار خاندان رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں سے سینتالیس ہزار خاندان کیمپ سے باہر اپنے طور پر پشاور یا نوشہرہ میں رہ رہے ہیں۔

فیض محمد فیضی نے بتایا کہ اب بھی روزانہ ایک سو سے ڈیڑھ سو خاندان کیمپ پہنچ رہے ہیں جن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

ان سے جب سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ تمام رجسٹرڈ خاندانوں کو ضروری اشیاء ، پانی اور دیگر تمام سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں اور کیمپ میں موجود تمام خیموں کو بجلی اور پنکھے بھی فراہم کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں