ملتان: ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے شہر ملتان میں ساڑھے تین مرلے کے مکان میں رہنے والے پیپلز پارٹی کے ایک عام کارکن نے پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیت کر بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کو حیران کردیا ہے۔

’یہ تخت لاہور کے خلاف فیصلہ ہے‘

پی پی ایک سو چورانوے پر پیپلز پارٹی کے امیدوار عثمان بھٹی نے اگرچہ محض پونے چار سو ووٹوں سے فتح حاصل کی ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ نون کے قلعہ میں شگاف ڈالا ہے اور ایک جاگیر دار اور روایتی سیاستدان کو شکست دی ہے۔

مسلم لیگ نون نے سنہ انیس سو اٹھاسی سے لیکر اب تک پیپلز پارٹی کے ہر امیدوار کو اس نشست پر ہرایا تھا اور اس بار ایک ایسے امیدوار کو ٹکٹ دی تھی جو خود سابق صوبائی وزیر رہے تھے اور ان کے والد نہ صرف ایم این اے بلکہ سابق ضلعی ناظم بھی رہے۔

مسلم لیگ نون کے امیدوار معین الدین قریشی سابق وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی کے بھانجے بھی ہیں۔

نامہ نگار علی سلمان کےمطابق اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے اپنے ایک ایسے کارکن کو ٹکٹ دیا جوگلی محلوں میں پیپلز پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرتا تھا اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے جلسوں میں نعرے لگاتا تھا۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ کارکن اس سے پہلے دو بار یونین کونسل کا نائب ناظم منتخب ہوا تھا اور زمانہ طالب علمی میں مقامی سٹوڈنٹ لیڈر تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا خیال تھا کہ یہ ضمنی انتخاب مسلم لیگ نون کا ہی ہے اور پیپلز پارٹی نے سابق روایت برقرار رکھتے ہوئے ہارنا ہے شاید اسی لیے اس بار ایک عام کارکن عثمان بھٹی کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما خواجہ رضوان کا کہنا ہے کہ عثمان بھٹی مالی طور پر اس قابل نہ تھے کہ وہ خود سے الیکشن لڑ سکیں لیکن جب ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ پارٹی نے ایک کارکن کو ٹکٹ دی ہے تو ان سب نے ملکر چندہ اکٹھا کیا۔

پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ عثمان بھٹی ٹکٹ ملنے کے بعد بہت پرعزم تھےاور اسی لیے انہوں نے اپنا مکان تک بیچ ڈالا۔

عثمان بھٹی پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں اور ایک چھوٹی سی دکان پر جانوروں کی کھالوں کی خریدوفروخت کا محدود کاروبار بھی کرتے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت ان انتخابات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی اور کوئی وفاقی وزیر یا مرکزی لیڈر عثمان بھٹی کی انتخابی مہم چلانے نہیں آیا۔

اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کے امیدوار کی مدد کے لیے تین چار صوبائی وزراء ایم این ایز اور ایم پی ایز نے کئی روز تک ملتان میں ڈیرے ڈالے رکھے۔

عثمان بھٹی کے پاس ووٹروں کو لبھانے کی صرف ایک دلیل تھی اور وہ تھی سرائیکی صوبے کا قیام۔ انہوں نے تقریباً ہر بینر، پوسٹر اور سٹیکر پر سرائیکی صوبے کے بارے میں لکھا اور ہر تقریر میں سرائیکی صوبہ بنانے کی بات کی جبکہ ملتان میں وزیرِاعظم یوسف رضاگیلانی کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی کام اس کی دوسری دلیل تھی۔

ساتھی کارکن جی جان سے عثمان بھٹی کی مدد کو تیار تھے لیکن ملک کی معاشی حالات نے پیپلز پارٹی کے ووٹروں کو بددل کر رکھا تھا۔ نجی محلفوں میں اس بات کا اعتراف پیپلز پارٹی کے تقریباً تمام مقامی رہنما اور کارکن کرتے ہیں۔

میڈیا میں آنے والے تمام سیاسی تجزیات اور تبصروں میں مسلم لیگ نون کو فاتح اور پیپلز پارٹی کے عثمان بھٹی کو ریس سے پہلے ہی ہارا ہوا گھوڑا قرار دیا جا رہا تھا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما خواجہ رضوان کہتے ہیں جس دن پولنگ ہوئی اس دن پیپلز پارٹی کے ووٹروں کا ردعمل بھی مایوس کن تھا۔ پولنگ ایجنٹوں کی رپورٹوں سے اندازہ لگایا گیا کہ پیپلز پارٹی کو زیادہ سے زیادہ تین ہزار تک ووٹ ملے تھا۔

عثمان بھٹی کے ساتھی کارکن کسی حد تک پریشانی کا شکار تھے لیکن خواجہ رضوان کے بقول صبح گیارہ بجے اچانک ماحول تبدیل ہوگیا۔

عین اُسی روز وزیرِاعظم کو سزا سنائی جاچکی تھی اور ملتان بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکن گھروں سے نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔

بڑی تعداد میں کارکنوں نے انتخابی میدان کا رخ کیا۔ پیپلز پارٹی کے حامی ووٹروں نے لوگوں کو گھر گھر جاکر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔

خواجہ رضوان کا اندازہ ہے کہ عثمان بھٹی کو باقی کے سترہ ہزار ووٹ وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا کے اعلان کے بعد ہی ملے۔

عثمان بھٹی کی جیت نے جہاں ایک وڈیرے اور جاگیردار کی سیاست کے بت کو اوندھے منہ الٹا دیا ہے وہیں پاکستان کے سیاسی افق پر یہ سوال چھوڑ دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کیا واقعی پیپلز پارٹی کسی بھی ’سیاسی شہادت‘ کے بدلے ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟

واضح رہے کہ یہ نشست مسلم لیگ نون کے امیدوار شاہد محمود کے پاکستان تحریکِ انصاف میں چلے جانے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

مسلم لیگ نون نے جس امیدوار معین الدین قریشی کو ٹکٹ دیا ان کے والد اور وہ پہلے پیپلز پارٹی میں تھے پھر مسلم لیگ قاف میں آئے۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں گئے تو معین الدین قریشی بھی تحریک انصاف میں چلے گئے تھے اور اب انہیں مسلم لیگ نون کی ٹکٹ ملی تو مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئے۔

مسلم لیگ نون کے قائدین کو بھی سوچنا ہوگا کہ جیتنے والے امیدواروں کو پارٹی میں اکٹھا کرنے کی دوڑ میں تحریک انصاف کو ہرا دینے کی خواہش کہیں پارٹی کی عوامی مقبولیت کے لیے ناقابل تلافی نقصان تو نہیں بن جائے گی؟

اسی بارے میں