’سڑک پر رہنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عاشق کی طرح بہت سے بچے ایسے ہیں جو سات گھنٹے روزانہ چلچلاتی دھوپ میں کام کرتے ہیں

اقوامِ متحدہ کے سنہ دو ہزار پانچ کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد بارہ لاکھ سے پندرہ لاکھ کے درمیان ہے جو سڑکوں پر اپنی گزر بسر کرتے ہیں تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی سے بی بی سی نیوز کے شعیب حسن کا کہنا ہے کہ محرومی سب سے بڑی وجہ ہے جو والدین کو اپنے بچوں کو چھوڑنے پر یا بچوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔

میں دس سالہ عاشق سے ملا جو منوں کچرے میں کچھ تلاش کر رہا تھا۔

ہم پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے پاس وسطی کراچی کے ایک باغ میں ہیں۔

روشن آنکھوں والا یہ لڑکا اپنے کام کے دوران بات کرنے پر رضامند ہے۔

عاشق، سڑک پر رہنے والا بچہ ہے جو کچرا چُنتا ہے۔ وہ ایک ایسے گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے جو اس علاقے میں سرگرم ہے۔

عاشق کی طرح بہت سے بچے ایسے ہیں جو سات گھنٹے روزانہ چلچلاتی دھوپ میں کام کرتے ہیں۔ وہ ذرا ٹھہرتا ہے اور اپنا تھیلا مجھے دکھاتا ہے جو دن بھر کی چُنی ہوئی اشیاء سے بھرا ہے۔

لڑکے نے کہا ’میں پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرتا ہوں اور دیگر اشیاء بھی جنہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔‘

(اس طرح عاشق ایک سو روپے روزانہ کما لیتا ہے۔)

عاشق تسلیم کرتا ہے کہ یہ محنت طلب کام ہے لیکن وہ ساتھ ہی کہتا ہے کہ وہ اپنی اِس زندگی سے مطمئن ہے۔

’مجھے دن کے آخر میں پیسے مل جاتے ہیں اور انہیں میں بسکٹ خریدنے پر خرچ کرتا ہوں۔‘

عاشق نے یقین سے کہا کہ وہ منشیات کا استعمال نہیں کرتا جو اُسے کئی اُن دیگر بچوں سے منفرد کرتا ہے جو ایسا کرتے ہیں۔

جب میں نے عاشق سے پوچھا کہ وہ کرنا کیا چاہتا ہے تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے کہا ’میں باغ میں دوسرے بچوں کے ساتھ فٹبال اور کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں۔‘

’لیکن لوگ کہتے ہیں کہ ہم گندے ہیں، وہ ہمیں بھگا دیتے ہیں۔ یہ مجھے بہت برا لگتا ہے۔‘

عاشق کا کہنا ہے کہ وہ سکول جانا چاہتا ہے۔ ’میں بڑا ہوکر فوج میں جانا چاہتا ہوں۔‘

عاشق کو سڑک پر اپنی زندگی گزارتے ہوئے ابھی چند ہفتے ہی ہوئے ہیں۔ اپنے والد کی مسلسل مار کھانے کے باعث وہ گھر سے بھاگ کھڑا ہوا۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ یہاں زیادہ خوش ہے کیونکہ اُسے یہاں زیادہ کھانے کو ملتا ہے اور اسے وہ چیزیں بھی مل جاتی ہیں جن کی فرمائش وہ اپنے والد سے کیا کرتا تھا لیکن غربت کی وجہ سے وہ انہیں پورا نہیں کر پاتے تھے۔

جب میں نے کراچی کے صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کا رخ کیا تو دیکھا کہ سڑکوں پر کھانے کو جا بجا بہت کچھ ملتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سڑک پر رہنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے

یہاں ایسے ریستوران ہیں جنہیں امراء کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ کھانا مفت تقسیم کرتے ہیں جس میں مرغ بریانی اور پلاؤ شامل ہیں۔

یہ کھانا کھانے کے لیے جو لوگ منتظر ہوتے ہیں ان میں زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے اور ان میں چند تو ایسے ہوتے ہیں جن کی عمریں پانچ یا چھ برس سے زیادہ نہیں ہوتیں۔

بظاہر یہ بچے یہاں محفوظ ہیں لیکن سڑکوں پر ان کے لیے خطرات موجود ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچوں کو چند ہفتوں میں ہی جرائم کے منظم گروہ اٹھا لیتے ہیں اور کچھ- کو سیکس ورکر بننے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔

بے سہارا بچوں کے ایک مرکز کے سربراہ رانا آصف اِس کے لیے حکومت کو مورودِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

ان کے بقول ’پولیس بچوں کو نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان کے اپنے مفادات ہیں اور وہ بچوں کی سرگرمیوں سے مالی منفعت حاصل کرتی ہے۔‘

دیگر مقامی امدادی کارکن بھی رانا آصف کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جہادی گروپوں کی نظر میں بھی آتے ہیں جو انہیں اپنے گروپوں میں شامل کرلیتے ہیں۔

تاہم پولیس ایسے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ’کبھی کبھار ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں چند پولیس اہلکار شامل ہوتے ہیں تاہم ایسے اہلکاروں کی نہ صرف نشاندہی ہوجاتی ہے بلکہ انہیں سزائیں بھی ملتی ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ بچوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔

لیکن ایسے بچوں کے لیے کہیں کچھ مدد موجود ہے۔ آزاد فاؤنڈیشن بچوں کو سڑکوں سے اپنے ہاں لاکر انہیں پڑھنا، لکھنا اور حساب سکھاتے ہیں۔

دس سالہ یاسمین سے جب ہم ملے تو وہ زرد رنگ کے سورج کا خاکہ بنا رہی تھی۔ اس کے والد ہیروئن کے عادی ہیں اور اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ سڑکوں پر جا کر گاڑیاں دھوئے اور لوگوں سے خیرات مانگے تاکہ ان کے نشہ کے لیے پیسے جمع ہوسکیں۔

اس کی عمر کی چند ایسی لڑکیاں بھی ہیں جنہیں جسم فروشی کے لیے مجبور کردیا گیا ہے۔

ایک اور باغ میں چند ایسے لڑکوں کا گروپ ہے جو ایک قسم کی گوند کی بو کو سونگھتا ہے۔

ان میں ایک انیس سالہ عرفان ہے جس نے بتایا کہ وہ سات سال کی عمر سے اپنی زندگی سڑک پر بسر کررہا ہے۔

عرفان کے بقول ’میں چوریاں کرتا ہوں اور منشیات لیتا ہوں۔ جب میں نشہ کرتا ہوں تو میرا دماغ سُن ہوجاتا ہے اور میں خوش رہتا ہوں۔ میں سڑکوں پر نہیں رہنا چاہتا لیکن اب میرا نہیں خیال کہ ایسا کبھی ہو سکے۔‘

ایسے زیادہ تر لڑکے اپنی اٹھاریویں سالگرہ دیکھنے سے پہلے اس دنیا سے کُوچ کر جاتے ہیں۔