پاکستان میں شہ اور مات کا کھیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوسف رضا گیلانی کو ملی ایک منٹ کی سزا کی وجہ سے آنے والے ہفتے اور مہینے ان کے لیے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ملک کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو صدر زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا ہے۔

انہیں عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا دی گئی جو بمشکل ایک منٹ جاری رہی لیکن یہ وہ ایک منٹ تھا جو عام انتخابات سے قبل ملک کی سیاست کی سمت طے کر سکتا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کہ اس پورے سیاسی تماشے میں جیت کس کی ہوئی جوگزشتہ تقریباً تین ماہ سے اربابِ اختیار کی توجہ کا مرکز تھا؟ اس سوال کا کوئی صاف صاف جواب نہیں ہو سکتا اور اس کی وجہ ملک کی دھوکہ باز اور سازشی سیاسی ثقافت اور اقتدار کا کمزور ڈھانچہ ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت کے ملک کی عدالتِ عظمٰی سے خراب تعلقات ایک کھلا راز ہیں اور گزشتہ چار برس کے دوران صدر زرداری اور چیف جسٹس کے درمیان بیشتر معاملات پر اختلاف رہا ہے اور ’اصولی اختلاف‘ کے لبادے میں پیش کی جانے والی یہ باتیں سیاسی منظر نامے پر مسلسل چھائی رہی ہیں۔

پاکستان کی پینسٹھ سالہ تاریخ میں فوجی اور سیاسی طبقے کے درمیان اقتدار کے لیے آنکھ مچولي کا کھیل چلتا رہا ہے۔ اسی ٹکراؤ کی وجہ سے تین بار ملک میں فوجی بغاوتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں ملک میں دہائیوں تک فوجی حکمران برسرِاقتدار رہے ہیں اور ان کی مطلق العنانیت نے سیاسی طبقے کی ساکھ اور اثر کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

اس سیاسی رسہ کشی کا ایک براہِ راست نتیجہ ایسے آئینی ڈھانچے کے طور پر بھی سامنے آیا جس میں بالواسطہ طور پر منتخب ہوئے صدر کے پاس پارلیمنٹ کو برطرف کرنے کا اختیار آ گیا اور ملک کی فوجی قیادت اس کی مدد سے ان منتخب حکومتوں کو باہر کا راستہ دکھاتی رہی ہے جن پر انہیں اعتبار نہ تھا۔

اسی کی وجہ سے ملک کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر پوری طرح سے پاکستان کی فوج کا کنٹرول رہا ہے اور یہی ملک کی معیشت کے بارے میں ان کی رائے کو اہم بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔

سنہ 2008 میں جب زرداری صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے ملک کا نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی اور ایک آئینی ترمیم کے ذریعے وہ بطور صدر پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے حق سے دستبردار ہوگئے۔ اس ترمیم نے مستقبل میں کسی فوجی حکومت کی صورت میں منتخب پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا امکان بھی ختم کر دیا۔

اس اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حقوق کے خلاء کو بھرنے کے لیے ملک کی ایک ایسی عدلیہ آگے بڑھی جو خود پر حکومت کے عدم اعتماد کا شکار تھی اور اس پر ناراض بھی تھی۔ ملک کی فوجی قیادت کو بھی اس عدلیہ کی شکل میں وہ آلۂ کار نظر آیا جس کی مدد سے حکومت کے عزائم کو لگام دی جا سکتی تھی۔

اس پس منظر کی وجہ سے نہ تو وزیراعظم گیلانی کے خلاف مقدمے اور نہ ہی اس فیصلے سے حیرانی ہوئی ہے۔گزشتہ چار سال سے پاکستان کے اعلٰی جج ایسے طریقے اور ذریعے تلاش کر رہے تھے جن کے ذریعے مبینہ بدعنوانی کے لیے زرداری پر شکنجہ کسا جا سکے۔

پاکستان کے زیادہ تر تجزیہ نگاروں کی یہی رائے ہے کہ اس سلسلے میں چیف جسٹس کی کوششیں پاکستان کی سیاست کو بدعنوانی سے نجات دلانے سے زیادہ فوج کے چالاک مخالف سے چھٹکارا پانا لگی ہیں۔

لوگوں کو سیاسی طور پر جگہ دینے اور سیاسی چالیں چلنے کے ماہر صدر زرداری نے اپنے چار سال کے دور اقتدار میں فوجی قیادت کو بارہا پچھاڑا ہے۔

سب سے پہلے، انہوں نے جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک سیاسی اتفاق رائے قائم کیا اور اسی وجہ سے تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ وہ فوجی بغاوت کی صورت میں فوج کا ساتھ نہیں دیں گی۔

دوسرے، وہ امریکیوں کو یہ بات سمجھانے میں بھی کامیاب رہے ہیں کہ پاکستانی فوج کے ساتھ رابطہ رکھ کر ان کے اہداف پورے ہونے والے نہیں ہیں اور اگر انہیں خطے میں استحکام لانا ہے تو اس کے لیے پاکستان کے سیاسی طبقے سے بات کرنی ہوگی۔

تیسرا، انہوں نے عوامی طور پر یہ ظاہر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی کہ گزشتہ سال ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جب فوج پر ضرورت سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی دباؤ تھا، تو انہوں نے موجودہ فوجی قیادت کو سہارا دیا۔

یہ سب باتیں انہیں خطرناک مخالف ثابت کرتی ہیں جس کی اقتدار میں واپسی انہیں ناپسند کرنے والوں کو قطعی منظور نہیں ہوگی۔ ان کے دورِ اقتدار کا یہ آخری سال ہے اور اگر سیاسی طور پر انہیں نیچا نہیں دکھایا جا سکتا ہے تو پھر انہیں کسی قانون معاملے میں پھنسانا ہوگا۔

اس لیے وزیراعظم گیلانی پر صدر زرداری کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کھولنے کے دباؤ ڈالا گیا، جس سے انہوں نے انکار کیا اور اس لیے سپریم کورٹ نے انہیں عدالتی توہین کا قصوروار قرار دیا۔

واضح طور پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو قصوروار قرار دیے جانے کے فیصلے پر حکومت کو مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ انتخابات کا سال ہے۔ حکومت اپنی سہولت کے مطابق ملک میں انتخابات کا اعلان کر سکتی ہے اور اپنے لیے بہترین نتائج کی امید بھی کر سکتی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت کے مخالف بھرپور کوشش کریں گے کہ وزیراعظم گیلانی کے خلاف ہونے والے اس فیصلے کا زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جائے، اور یہ کھیل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن کی مرکزی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے وزیراعظم سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے جانشین کو انتخابات کا اعلان کرنے سے پہلے زرداری کے خلاف مقدمات کو پھر سے کھولنا چاہیے۔

لیکن حکومت اس طرح کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دے گی۔ دراصل وہ تو پہلے سے ہی آگے کی سوچ رہے ہوں گے کہ وقت سے پہلے انتخابات کرانے پر اڑی اپوزیشن کو کس طرح منایا جائے اور کچھ وقت حاصل کیا جائے، خاص کر ایسے وقت میں جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ملی ایک منٹ کی سزا کی وجہ سے آنے والے ہفتے اور مہینے ان کے لیے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگلے انتخابات سے پہلے حکومت کے اب کچھ ہی مہینے باقی ہیں اور ایسے میں جوشیلے ماحول کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے۔

یہ وہ کھیل ہے کہ پاکستان کے زرداري اور گیلاني جس کے نہ صرف ماہر ہیں بلکہ انہیں یہ کھیل کھیلنا پسند بھی ہے اور فی الحال عدلیہ اور فوج میں اس کے پوشیدہ حامی تو اس کھیل سے باہر دکھائی دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں