’خط لکھ کر پارلیمان کا مذاق اڑایاگیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر قانون نے کہا کہ خط لکھ کر پارلیمان کا مذاق اڑایا گیا اور اس سے پارلیمنٹ اور سپیکر صاحبہ کا استحقاق مجروع ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ سے قومی اسمبلی کے سپیکر کو لکھے گئے خط کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں قومی اسمبلی کی سپیکر سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے پر ’مزید ضروری کارروائی‘ کی جائے۔

وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار اقبال نصیر کا یہ اقدام اختیارات سے تجاوز ہے اس لیے سپریم کورٹ اس کی چھان بین کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ وزیر اعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مختصر فیصلے کی نقل کے ساتھ یہ خط جمعرات کو قومی اسمبلی کی سپیکر، کابینہ ڈویژن کے سیکریڑی اور چیف الیکشن کمشنر کو بھیجا گیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے اس خط کے مندرجات پڑھےجس میں درج ہے ’مجھے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ عدالت کے فیصلے میں دیے گئے احکامات پر فوری تعمیل کے لیے آپ کی توجہ دلاؤں۔‘

لیکن وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی اسمبلی کی سپیکر یا چیف الیکشن کمشنر کو کوئی ہدایت دی ہی نہیں ہے۔

وزیر قانون نے کہا ’سپریم کورٹ کا ایک تنخواہ دار ملازم یہ خط قومی اسمبلی کی سپیکر کو لکھتا ہے جو قومی اسمبلی کی کسٹوڈین ہیں جہاں عوام کی ترجمانی ہوتی ہے۔‘

فاروق ایچ نائیک نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’اقبال نصیر ایسے احکامات کی تعمیل کرانے کے لیے من مانی کررہے ہیں جو فیصلے میں ہے ہی نہیں۔ اقبال نصیر صاحب ایسے اختیارات استعمال کررہے ہیں جو ان کے پاس ہیں ہی نہیں۔ ان کے پاس صرف انتظامی اِختیارات ہیں۔ کہاں سپریم کورٹ نے اپنے مختصر آرڈر میں کوئی ہدایت دی ہے؟ یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔‘

وزیر قانون نے کہا کہ خط لکھ کر پارلیمان کا مذاق اڑایا گیا اور اس سے پارلیمنٹ اور سپیکر صاحبہ کا استحقاق مجروع ہوا ہے۔

انہوں نے کہا استحقاق مجروع کرنے پر قومی اسمبلی میں تحریک جمع کرائی جائے گی تا کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ یہ کیسے ہوا۔

واضح رہے جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو عدالتی حکم کے تحت صدر زرداری کے خلاف مبینہ بداعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی تھی۔ اس علامتی سزا کا دورانیہ ایک منٹ سے بھی کم تھا۔

وزیر قانون نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم تیس دن کے اندر عدالت کےاس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ اختیار قومی اسمبلی کے سپیکر اور چیف الیکشن کمیشن کا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ابھی تفصیلی فیصلہ آیا ہی نہیں اور توہین عدالت کے قانون کے تحت ایک ملزم کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف کسی فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر اپیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ ’ابھی ہم نے اپیل کرنی ہے اگر یوسف رضا گیلانی نے اپیل کا فیصلہ کیا۔ اتنی جلدی کیا ہے، رجسٹرار صاحب کو بھی لگتا ہے جلدی ہے جس طرح انہوں نے خط لکھا ہے! بھائی تیس دن کا تو آپ انتظار کریں۔‘

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی اب بھی وزیر اعظم ہیں اور اب بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور کابینہ آئین اور قانون کے مطابق کام کررہی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم گیلانی کے بارے میں آئین اور قانون کے مطابق نااہلی کا کوئی فیصلہ آیا تو اس کو تسلیم کیا جائے گا۔

اسی بارے میں