ببلو اب کیا کرے؟

سانپ اور سیڑھی کا کھیل
Image caption ببلو کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ننانوے کی سیڑھی تک تو پہنچ جاتا ہے لیکن اگلے پانسے میں پھر سانپ کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔

آصف اگرچہ ایک مضبوط مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوا ۔لیکن اس کے دوستوں میں تھڑے بازوں سے لے کر نامی گرامی خانوادوں کے بے فکرے لونڈوں اور موالیوں سمیت ہر رنگ و نسل و قماش کے لوگ شامل تھے۔وہ ڈسکو کا بھی رسیا تھا اور فٹ پاتھی چائے کی چسکیاں بھی لیتا تھا۔وہ جوشِ جوانی کے جھگڑوں میں پٹتا بھی تھا اور پیٹتا بھی تھا۔

اس نے کبھی ایک کاروبار پر توجہ نہیں دی۔وی سی آر کرائے پر چلانے سے لے کر کنسٹرکشن تک ہر وہ کام کیا جس میں فوری طور پر چار پیسوں کی امید ہو۔ ابتدا میں وہ اچھا کاروباری تو نا بن سکا مگر بھانت بھانت کے کاموں میں ہاتھ ڈال کر یہ ضرور پتا چل گیا کہ کس کام کو کس مزاج کے لوگ زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ انکی نفسیات کیا ہے اور ان سے کیسے ڈیل کیا جاسکتا ہے، شیشے میں اتارا جاسکتا ہے، استعمال کیا جاسکتا ہے اور ڈسپوز ایبل بنایا جا سکتا ہے۔

زندگی کے رنگوں کے عملی مشاہدے سے اسے یہ بھی تجربہ حاصل ہوگیا کہ کھیر گرم گرم کھانے کے کیا نقصانات ہیں اور ٹھنڈا کرکے کھانے کے قلیل و طویل المیعاد فائدے کیا ہیں۔فوری فائدے کو ملٹی پلائی کیسے کیا جاسکتا ہے اور کسی کے نقصان کو اپنے فائدے میں کیسے بدلا جاسکتا ہے۔ اندرونی جذبات چہرے پر لانے کے کیا نقصانات ہیں اور اندر کے طوفان ، غضے یا کامیابی کو ایک سپاٹ مسکراہٹ سے کیسے ڈھانپا جاسکتا ہے۔

چنانچہ مضبوط قوتِ ارادی ، نظام کی اندرونی درزوں اور تہوں تک دیکھنے اور انہیں اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے چابک دستی سے استعمال کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اور قسمت کے پتوں کو ذہانت سے پھینٹنے کی خوبی نے آج اسے وہاں پہنچا دیا جہاں وہ ہے۔

جبکہ ببلو کی کہانی بالکل الٹ ہے۔ ببلو کے والد اگرچہ اپنا کاروبار وسیع کرنے کے لیے سخت محنت سے گذرے لیکن جب ببلو پیدا ہوا تو اس کے منہ میں سونے کا چمچہ تھا۔اسے ایک نیم مذہبی امیرانہ ماحول ملا جس میں قیمتی گاڑیاں رکھنے، میوزک سننے، ہوٹلنگ کرنے اور بیرون و اندرونِ ملک سیر سپاٹے کی اجازت تو ہوتی ہے ۔لیکن باپ ہر ہر بات پر نظر بھی رکھتا ہے۔ ببلو کے دوستوں میں زیادہ تر کاروباری اور صنعت کار خانوادوں کے بچے تھے۔

ببلو نے اردگرد تھڑے اور فٹ پاتھ کی زندگی دیکھی ضرور تھی لیکن جس طرح آصف نے اس زندگی کو اپنے اندر اتارا ویسا ببلو کا تجربہ نہیں رہا۔ ببلو میں اگرچہ کاروباری پرکھ تو موجود تھی لیکن بھانت بھانت کے تجربات کی بھٹی سے وہ کبھی نہیں گذرا تھا۔

آصف کو زندگی نے یہ سکھایا کہ اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے بالکل پانی کی طرح جیو ۔یعنی بوتل ہے تو بوتل میں ڈھل جاؤ۔گلاس ہے تو خود بھی گلاس ہو جاؤ۔ مگر ببلو دنیا داری اور ایک روایتی مڈل کلاسی اخلاقیات کے درمیان پنڈولم بنا رہا ۔وہ جاری سسٹم میں ڈھل جانے کے بجائے سسٹم کو اپنے حساب سے ڈھالنے کا زیادہ خواہش مند رہا۔ چنانچہ آصف اگر مزاجاً پانی تھا تو ببلو مزاجاً لوہا ۔اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ لوہا ایک خاص حد سے زیادہ نہیں مڑ سکتا۔

جس طرح ببلو کو کاروبار ورثے میں ملا اسی طرح وہ سیاست کے کاروبار میں بھی آیا نہیں بلکہ لایا گیا۔جبکہ آصف کو سیاست پلیٹ میں پیش نہیں کی گئی بلکہ اس کا ہدف اسے سیاست میں لایا۔ چنانچہ اس شعبے میں بھی ببلو کا رویہ اس بچے کی طرح رہا جسے بغیر فرمائش کے آئس کریم مل جائے۔ جبکہ آصف نے یہ آئس کریم کوشش و مشقت سےحاصل کی ۔لہذا اسے اس کی قدر و قیمت ببلو سے زیادہ معلوم تھی۔

ان خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ببلو اور آصف مسلسل سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ببلو کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ننانوے کی سیڑھی تک تو پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اگلے پانسے میں پھر سانپ کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے ؟ کیا آصف زیادہ تیز ہے یا پھر اسکی قسمت؟ کیا پانسے میں کوئی گھپلا ہے یا سانپ اور سیڑھی سے بھی ببلو کے حریف نے مفاہمت کر لی ہے؟

آپ ہی بتائیے کہ ببلو بے چارا اب کیا کرے؟

اسی بارے میں