ریڈ کراس کے مغوی اہلکار کی لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ساٹھ سالہ خلیل ڈیل یمنی نژاد برطانوی باشندے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پولیس کو چار ماہ قبل اغواء کیے جانے والے بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے اہلکار کی لاش ملی ہے۔

خلیل رسجد ڈیل نامی اس اہلکار کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے ہی اغواء کیا تھا اور بعد میں طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اتوار کی صبح ایئرپورٹ روڈ پر مغربی بائی پاس کے قریب پولیس کو ایک لاش ملی جس سے فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ لایاگیا۔

پولیس کو لاش کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی جس کے مطابق یہ لاش آئی سی آر سی بلوچستان کے اہلکار خلیل ڈیل کی تھی اور طالبان نے ان کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جلد ہی ہلاکت کی ویڈیو بھی جاری کر دی جائے گی۔

آئی سی آر سی کے اہلکاروں نے سول ہپستا ل کے مردہ خانے میں رکھی گئی لاش شناخت کر لی ہے۔

ساٹھ سالہ خلیل ڈیل یمنی نژاد برطانوی باشندے تھے اور اغواء سے قبل گذشتہ ایک برس سے بلوچستان میں آئی سی آر سی کے ہیلتھ پروگرام مینیجر تھے۔ انہیں اس سال پانچ جنوری کو کوئٹہ کی چمن ہاؤسنگ اسکیم سے اس وقت اغواء کر لیا گیا تھا جب وہ اپنے دفتر سے گھر جا رہے تھے۔

آئی سی آر سی نے ایک بیان میں خلیل ڈیل کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ’آئی سی آر سی اور برٹش ریڈ کراس خلیل ڈیل کے اہلخانہ اور اقرباء کے غم میں برابر کی شریک ہے‘۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے بھی خلیل ڈیل کو ہلاک کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں خلیل ڈیل کے اغواء اور ان کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتا ہوں اور ان کے اہلِخانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ایک ایسے شخص کو نشانہ بنانا جس کا کام پاکستان میں عوام کی مدد ہو ایک ظالمانہ اور بےحس افراد کا اقدام ہے‘۔

خیال رہے کہ آئی سی آر سی کو 2010 میں ایک بلوچ مسلح تنظیم نے دھمکی دیتے ہوئے سرگرمیاں ختم کرنے کو کہا تھا جس کے بعد مذکورہ ادارے نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں۔

خلیل ڈیل کے اغواء کے بعد آئی سی آر سی نے بلوچستان میں جاری صحت کے مختلف منصوبوں پر کام بند کر دیا تھا جبکہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اپنی سرگرمیاں کم کر دی تھیں۔

اسی بارے میں