’آئندہ انتخاب ملک کے لیے زندگی اور موت کا انتخاب ہے‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’تیس جون کو ہماری جماعت میں انتخاب ہوگا جس میں چھوٹے سے بڑا ہر عہدیدار منتخب ہو کر آئے گا‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ انتخاب اس ملک کے لیے زندگی اور موت کا انتخاب ہے اور اگر کسی نے اس میں رکاوٹ ڈالنے یا دھاندلی کی کوشش کی تو تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سونامی لے کر آئے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب سے پہلے تو ’اگر انہوں نے سپریم کورٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو ہم پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سونامی مارچ کریں گے۔۔۔حکومت چلی جائے تو الیکشن میں دوبارہ آ جاتی ہے اور اگر سپریم کورٹ تباہ ہو جائے تو جمہوریت تباہ ہو جاتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے انتخابی دھاندلی کی کوشش کی تو اس پر بھی سونامی مارچ کریں گے۔

عمران خان سے کراچی سے یاسمین نے سوال کیا تھا کہ وہ جعلی ووٹوں کے ہوتے ہوئے انتخاب کیسے جیتیں گے اور یہ کہ پاکستان میں پیسہ، بندوق، غنڈہ گردی اور فوجی سرپرستی کے بغیر انتخاب جیتنا مشکل ہے تو اس صورتحال میں وہ ناممکن کو کیسے ممکن بنائیں گے؟

پروگرام کے دوران عمران خان سے پاکستان، انڈیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں نے ان کی جماعت کی پالیسیوں کے بارے میں سوالات کیے۔

سوالات کے موضوعات میں سیاچن، ڈرون حملے روکنے کے لائحہ عمل، انڈیا سے تعلقات سے لے کر تعلیم، صحت کے مسائل اور قانون کی بالادستی شامل تھے۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ پاکستان کے مسائل تو بہت الجھے ہوئے ہیں اور صرف کرپشن ختم کرنے کی باتیں کر کے وہ کس طرح انہیں ختم کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو ابتدائی اقدامات میں پولیس اور سِول سروس میں سیاسی مداخلت ختم کرنا، تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا اور توانائی کی پالیسی پر عمل کرنا شامل ہوں گے۔

ان سے جب آج کے دور کی مثالی ریاست کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سکینڈینیویائی ممالک کا ذکر کر دیا جن میں ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور ڈنمارک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں ریاست کمزور کی ذمہ داری لیتی ہے اور قانون کے آگے سب برابر ہیں۔

سیاچن کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ ایک احمقانہ جنگ ہے۔ انہوں نے انڈیا پاکستان میں مذاکرات پر زور دیتے ہوئے یورپ کی مثال دی جہاں مختلف ممالک میں بڑی بڑی جنگیں ہوئیں اور اب ان میں سرحدیں ختم ہو چکی ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستان کے مسائل کو کچھ زیادہ ہی آسان شکل میں بیان نہیں کر رہے عمران خان نے کہا کہ ایسا نہیں اور ’پاکستان آج جہاں کھڑا ہے وہاں سے نکلنے کا کوئی حل آسان نہیں ہے اور اگر اسے موجودہ حالات سے نکالنا ہے تو مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چیز ہے کہ جو اگر ٹھیک کر دی جائے تو مشکلات سے تیزی سے نکل کر ترقی کی جا سکتی ہے اور وہ ہے ’کرپشن‘۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار سال میں پاکستان میں ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی اور اگر یہی پیسہ بچا لیں تو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑے گا۔

پروگرام کے آغاز پر مردان کے محمد اکرام خان کے اس سوال پر کہ شہرت ملنے پر کہیں وہ کنفیوز تو نہیں ہوگئے، عمران خان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ پہلی مرتبہ ان سے کوئی ایسا سوال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی ہو جسے ’اللہ نے اتنی شہرت دی ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ پینتیس سال پہلے لوگوں کی نظر میں آئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے اونچ بھی دیکھی اور نیچ بھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ برے وقت سے سیکھتے ہیں اور اچھے وقت میں ان کے پیر زمین پر رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ برے وقت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ اس سے سیکھتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ شاید ہی پاکستان میں کسی نے ایسی سیاست کی ہو کہ اسے موقع بھی ملا ہو اور وہ حکومت سے باہر رہنے کو ترجیح دے۔

کوئٹہ سے ڈاکٹر نتاشا نے سوال کیا کہ عمران خان حقیقت میں ہے کون؟ کیا وہ ایک رجعت پسند ہے، یا روشن خیال، وہ دائیں بازو کا حامی ہے یا بائیں بازو گا؟

جواباً عمران خان نے کہا کہ ’میں تو علامہ اقبال کا مرید ہوں اور وہ میرے نظریاتی ماڈل ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال مذہب کے معاملے میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے تو عام آدمی کے لیے ان کے خیالات بائیں بازو سے متاثر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اقتصادی پالیسی بائیں بازو کی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے عمران وزیر کے اس سوال پر کہ فاٹا میں ان کا سونامی کب پہنچے گا عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ابھی انہیں فاٹا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہاں کے عوام تباہ ہو چکے ہیں اور ان کی جو حالت ہے اس کا ادراک نہ دنیا میں کسی کو ہے اور نہ ہی پاکستان میں لوگ اصل صورتحال کے بارے میں جانتے ہیں۔

اس سوال پر کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف بیانات، مظاہرے اور دھرنے تو دیتے ہیں لیکن اگر انہیں حکومت ملی تو وہ انہیں کیسے رکوائیں گے، عمران خان نے کہا کہ دنیا میں مثال نہیں ملتی کہ کہیں بھی آپ کا اتحادی آپ پر ہی بم گرا رہا ہو اور یہ حملے حکومت کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے جاری ہیں اور کوئی بھی خودمختار حکومت چاہے تو یہ حملے رک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ سے لڑائی مول نہیں لینا چاہتے لیکن ہم ان کے غلام بھی نہیں۔ ہم انہیں دلیلوں سے سمجھائیں گے کہ یہ حملے خود ان کے لیے نقصاندہ ہیں اور ان سے صرف نفرت بڑھ رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ نہ مانے تو ہم ان سے تعاون کا عمل ختم کر دیں گے، اقوامِ متحدہ میں جائیں گے‘۔

نئی دلی سے فہد عارف کے بھارت سے تعلقات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کو ایک نئی سوچ لانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ’ جو میں بڑا ہو رہا تھا تو بہت نفرت تھی لیکن اب نئی نسل ہے اور دنیا آگے بڑھ گئی ہے۔ اس لیے پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے کہ نئی سوچ کے ساتھ بات کریں‘۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک حقیقت ہے اور اس کا سیاسی حل ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو ’بیک برنر‘ پر رکھنے سے کام نہیں چلے گا اور دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ تعلقات بڑھائیں، آپس میں تجارت کریں لیکن ساتھ ساتھ اس معاملے کو بھی لے کر چلیں۔

بلوچستان کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی طور پر ہی حل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ یہ کام سیاستدانوں کا ہے۔