لیاری: آپریشن جاری، مزید تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی ہے

کراچی کے علاقے لیاری میں پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن تیسرے روز بھی جاری ہے جبکہ علاقے کے مکین نقل مکانی کر رہے ہیں۔

پولیس نے لیاری میں جاری آپریشن کے تیسرے روز ایک خاتون اور ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جبکہ اکیس افراد زخمی بھی ہوئے۔

زخمیوں میں ایک بچی سمیت دو ڈی ایس پیز ایک اے ایس آئی اور آٹھ سپاہیوں کے علاوہ دو نجی ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔

موقع پر موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو شام ڈھلے چیل چوک کے قریب کھڑے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر راکٹ برسائے گئے جس سے دو کیمرہ مین زخمی ہوئے گئے۔

کراچی میں نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیس نے صحافیوں کو علاقے سے مزید پیچھے بھیج دیا ہے۔

علاقے میں پولیس پر مسلح افراد کی جانب سے مسلسل راکٹ اور دستی بم سے حملے کیے جارہے ہیں جس سے پولیس کو پیش قدمی کرنے میں شدید دشواری پیش آرہی ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے لیاری کے زیادہ تر مکین اپنےگھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

لیاری کے ایک مکین محمد سعید نے فون پر بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ علاقے میں شدید کشیدگی ہے اور لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایاجاتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی گھروں میں راشن نہیں ہے جبکہ بیشتر حصوں میں بجلی بھی نہیں آرہی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران علاقے میں نصب بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور آپریشن کی وجہ سے کے ای ایس سی علاقے میں کام کرنے سے قاصر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس آپریشن میں سولہ افراد ہلاک اور پینتیس سے زائد زخمی ہو چکے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں جاری سخت کشیدگی کی وجہ سے معلومات حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور علاقے کے تھانے سے بھی رابطے ہونے پر کوئی مصدقہ اطلاع مشکل ہی سے ملتی ہے کیونکہ پولیس کے اہلکار بھی تھانے تک محدود ہیں۔

دوسری جانب لیاری کے نسبتاً کم کشیدگی والے علاقوں میں رہنے والے افراد نے موقع ملتے ہی نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ان میں سے کچھ افراد نے اتوار کو کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر لیاری آپریشن کے خلاف احتجاج بھی کیا اور سڑک پر دھرنا دیا جس سے کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل ہوگئی۔

اس سے قبل آئی جی سندھ مشتاق شاہ نے کہا تھا کہ لیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ان کی گرفتاری تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد مخصوص علاقے میں موجود جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کالعدم تنظیموں کی مجودگی کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس علاقے میں موجود جرائم پیشہ افراد بھتہ لیتے ہیں اور یہی لوگ عام شہریوں کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بناتے اور ان سے تاوان وصول کرتے ہیں اور یہ آپریشن ان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ ابھی یہ آپریشن اور کتنا عرصہ جاری رہے گا۔ آئی جی نے بتایا کہ پولیس کو رینجرز اور ایف سی کی بھی مدد حاصل ہے کیونکہ جرائم پیشہ افراد کے پاس بڑی تعداد میں بھاری ہتھیار موجود ہیں جن کا وہ آزادانہ استعمال کررہے ہیں۔

اسی بارے میں