’خط نہ ضابطے کی خلاف ورزی نہ خلافِ آداب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اس طریقۂ کار پر عمل کرنے میں ضابطے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے اور نہ ہی یہ خلاف آداب ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ضروری کارروائی کی خاطر قومی اسمبلی کے سپیکر کو خط تحریر کرنے کے اقدام کا دفاع کیا ہے اور اس بارے میں حکومت کی تنقید کو مسترد کردیا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا سنائے جانے کے فوری بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار اقبال نصیر نے قومی اسمبلی کی سپیکر، چیف الیکشن کمشنر اور کابینہ ڈویژن کے سیکریڑی کو وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے کی نقل کے ساتھ ایک خط تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر مزید ضروری کارروائی کی جائے۔

اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا ’مجھے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ میں عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے آپ کی توجہ مبذول کراؤں‘۔

اس پر سنیچر کو وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار اقبال نصیر کی طرف سے خط لکھنے کا اقدام اقدام اختیارات سے تجاوز پر مبنی ہے اس لیے سپریم کورٹ اس کی تحقیقات کرے کہ یہ خط کیسے لکھا گیا۔

اتوار کی شام سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے تمام احکامات عملدرآمد اور تعمیل کے لیے متعلقہ اداروں اور محکموں کو بھیجے جاتے ہیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ اسی اصول کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے کو سپیکر اور چیف الیکشن کمشنر سمیت متعلقہ حکام یا محکموں کو عملد درآمد اور تعمیل کے لیے بھیجا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو تا برخاستگی عدالت قید کی سزا سنائی تھی

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے سنہ 1980 کے رولز کے مطابق ہے اور اس طریقۂ کار پر عمل کرنے میں ضابطے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے اور نہ ہی یہ خلاف آداب ہے۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی اسمبلی کی سپیکر یا چیف الیکشن کمشنر کو کوئی حکم نہیں دیا ہے اور الزام عائد کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار اقبال نصیر ایسے احکامات کی تعمیل کے لیے من مانی کررہے ہیں جو فیصلے میں ہے ہی نہیں۔

وزیر قانون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی عدالت کا تفصیلی فیصلہ بھی نہیں آیا اور توہین عدالت کے قانون کے تحت ایک ملزم کو عدالتی فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ایسے میں اتنی سرعت کے ساتھ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خط کیوں لکھا گیا اور رجسٹرار کو اپیل کی مدت ختم ہونے تک کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

واضح رہے جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو عدالتی حکم کے تحت صدر زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کا مرتکب قرار پایا تھا اور انھیں عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی تھی۔ اس علامتی سزا کا دورانیہ ایک منٹ سے بھی کم تھا۔

اسی بارے میں